قرار داد سے خانہ جنگی کا خطرہ: روس

تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس کے نائب وزیر خارجہ گناڈی گٹیلوو نے خبردار کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام کے بارے میں کسی بھی قسم کی قرارداد ملک میں خانہ جنگی کے شعلوں کو مزید ہوا دے گی۔

انٹر فیکس خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ قرارداد کسی مفاہمتی فارمولے کی طرف نہیں لے جائے گی۔

شام کے بارے میں قرارداد پر سلامتی کونسل میں اس وقت بحث ہو جا رہی ہے جب شام میں بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔

عرب لیگ کے جنرل سیکریٹری نبیل العربی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ کرنے جا رہے ہیں کہ عرب لیگ کے اس منصوبے کی حمایت کرے جس میں وہ شام کے صدر بشارالاسد سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔

تاہم روس نے اس قسم کی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ شام کے بارے میں سفارتی سرگرمیاں اس وقت تیز ہوئی ہیں جب گزشتہ روز ملک بھر میں تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہوئے۔

حکومت مخالف گروہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چالیس عام شہری تھے، مگر ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہوسکی کیونکہ شام میں بی بی سی سمیت تمام بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر پابندیاں عائد ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے اگرچہ شام میں ہلاک ہونے والوں کے صحیح تعداد جاننا مشکل ہے تاہم اندازوں کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک 5400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

میدان جنگ سے تازہ اطلاعات کے مطابق شام کی سرکاری فوجوں نے دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقوں کو باغی مسلح گروہوں سے پاک کروا لیا ہے۔

بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار جم موئیر کے مطابق نے شام کے سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج نے دمشق کے مشرقی مضافات میں ایک ’اعلیٰ قسم’ کے کارروائی کی ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فوجی دستوں نے ایک بڑی تعداد میں ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کیا اور بہت ساروں کو گرفتار کرلیا جن سے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔

حکومت مخالف گروہوں کا کہنا ہے کہ باغی قریبی پہاڑی گھاٹیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں سرکاری فوج سخت ناکہ بندی کرکے ایک ہفتے سے گولہ باری کر رہی ہے۔ اسی جگہ سے مزید شمال کی جانب ہے حمس نامی شہر میں 72 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس دوران شام کی وزارت خارجہ نے کہا کہ شام مغربی ممالک کی ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دے گے جس کا مقصد شام میں طوائف الملوکی پھیلانا ہے۔

عرب لیگ کے مجوزہ منصوبے کے مطابق شام کے صدر اقتدار اپنے نائب کے حوالے کر دے تاکہ دو ماہ کے اندر ایک نئی متحدہ قومی حکومت تشکیل دی جا سکے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اس منصوبے کی حمایت ہے مگر شام نے اسے مسترد کر دی ہے۔

فرانس کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے دس ارکان عرب لیگ کے منصوبے کی حمایت کےلیے تیار ہیں۔ قرارداد پر رائے شماری کےلیے کم از کم نو ارکان کی حکایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

تاہم روس جو سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، نے کہا ہے کہ وہ اس قسم کی کسی بھی قرادار کو ویٹو کر دے گا جو شام میں مداخلت کے رستے کھولے گی۔ روس کا شام میں ایک بحری اڈہ ہے اور اس کے شام کی موجودہ حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جسے وہ اسلحہ بھی سپلائی کرتا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کہ کہنا ہے سلامتی کونسل کے ارکان اب اس بات پر غور کریں کہ کس طرح بشارالاسد کو اقتدار سے علیحدہ کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کرنی نے کہا ہے کہ شامی حکومت کا ملک پر کنٹرول ختم ہوگیا ہے اور یہ جلد ہی اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔

جبکہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ایک ترجمان نے کہا کہ روس کے پاس اب اس قرارداد کو روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

روس نے شام کے بحران میں فریقین کے درمیان بات چیت کرانے کی پیش کش کی ہے مگر حکومت مخالف گروہوں نے اس پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔

قطر کے وزیر اعظم اس دوران نیو یارک روانہ ہورہے ہیں تاکہ وہ عرب لیگ کے منصوبے والی قرارداد کیلیئے حمایت حاصل کرسکیں۔

قطر، عرب لیگ کی اس کمیٹی کا سربراہ ہے جو شام کے معاملات سے نمٹ رہی ہے۔ قطر اس سے قبل شام میں عرب لیگ کی فوجیں بھیجنے کی تجویز دے چکا ہے۔

سنیچر کو عرب لیگ نے اپنے اس مانٹرنگ مشن کو معطل کرنے کا اعلان کیا جسے ایک ماہ قبل شام میں تشدد کے واقعات کی لہر کا جائزہ لینے کیلئیے شام بھیجا تھا۔