جنوبی یمن میں ڈرون حملہ، تیرہ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جنوبی یمن میں ڈرون حملے کے ذریعے تیرہ افراد ہلاک کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق جنوبی یمن میں القاعدہ کے شدت پسندوں پر ایک ہوائی حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک قبائلی رہنماء کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم چار افراد القاعدہ کے مقامی رہنماء تھے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ابیان صوبے میں کیا گیا۔ گزشتہ سال مذہبی شدت پسندوں نے ابیان کے چند حصوں پر قضبہ کر لیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ان علاقوں پر کنٹرول حاصل کی ناکام کوششیں کیں جن میں ان کو شدید جانی نقصان ہوا ہے۔

اس واقعے کی تفصیلات واضح نہیں مگر کچھ اطلاعات کے مطابق حملہ لؤدار سے مشرق کی جانب جاتی ہوئی دو گاڑیوں پر کیا گیا۔

تاہم قبائلی رہنماؤں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ایک چوکی اور ایک سکول کو جس میں مقامی القاعدہ رہنماؤں اور جنگجوؤں کا اجلاس جاری تھا، رات گئے نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں عبد المنیم الفثانی بھی شامل تھا۔ اطلاعات کے مطابق عبد المنیم الفثانی سنہ دو ہزار میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر حملے اور سنہ دو ہزار دو میں ایک فرانسیسی آئل ٹینکر پر حملے کے الزام میں امریکی حکام کو مطلوب تھے۔

دوسری جانب القاعدہ کے ترجمان نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی مگر کہا کہ اس کے تین ارکان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو زخمی ہیں۔امریکی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

امریکہ اور اس کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے جنوبی یمن میں مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے کرتے رہتے ہیں مگر مقامی حکام شاید ہی کبھی اس معاملے پر بات کرتے ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ایک حملے میں امریکی انتہاء پسند عالم انوار الوالکی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بہت سے یمنی شہری ان حملوں کے خلاف ہیں جو کہ ان کے خیال میں بہت سے بے گناہوں کی اموات کا سبب بنتے ہیں۔ سنہ دو ہزار نو کے آخری حصے میں ایک امریکی حملے میں چالیس لوگ مارے گئے تھے جس کے بارے می امریکہ کا کہنا تھا کہ حملے نے القاعدہ کو نشانہ بنایا تھا۔

یمن میں گزشتہ سال ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے جنوبی اور مشرقی یمن میں مضبوط ٹھکانے بنانے کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

نومبر میں صدر علی عبداللہ صالح نے تین دہائیاں حکومت کرنے بعد حکومت مخالف احتجاج کے دباؤ میں آکر اقتدار اپنے نائب کے حوالے کر دیا تھا۔

صدر صالح اس وقت امریکہ میں زیرِ علاج ہیں۔ وہ جون میں صنعا میں صدراتی محل پر ایک حملے میں صدر صالح زخمی ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں