ٹریفک قانون پر برطانوی وزیر خطرے میں

کرس ہیوہن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تفتیش سے معاملہ ہمیشہ کے لیے طے ہو جائے گا: ہیون

برطانیہ میں توانائی کے وزیر کرِس ہیون کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے ٹریفک قانون توڑنے کے بعد سزا سے بچنے کے لیےجھوٹ بولا۔وزیر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ملک کی سرکاری پراسیکیوشن سروس جمعہ کو اس بات کا فیصلے کرے گی کہ وزیر کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے یا نہیں۔

انگلینڈ کے علاقے ایسیکس کی پولیس گزشتہ کئی ماہ سے اس مقدمے پر کام کر رہی ہے جس کی بنیاد سن دو ہزار تین کے ایک واقعے میں ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیر کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے سن دو ہزار تین میں حد رفتار سے زیادہ تیزی سے گاڑی چلائی اور بعد میں کہا کہ اس وقت گاڑی کوئی اور چلا رہا تھا۔

سرکاری پراسیکیوشن سروس کا فیصلہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق دن کو دس بجے متوقع ہے لیکن مذکورہ وزیر کو اس کے بارے میں کچھ دیر پہلے آگاہ کر دیا جائے گا۔ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نک کلیگ کہہ چکے ہیں کہ انہیں یا مذکورہ وزیر کو پراسیکیوشن کے فیصلے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

کرس ہیون نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان پر تفتیش کو خوش آمدید کہا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کے دفتر نے بھی الزامات کی تردید کی ہے اور کرس ہیون پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

بی بی سی کے سیاسی امور کے مدیر نِک رابنسن نے کہا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور نائب وزیر اعظم نِک کلیگ متفق ہیں کہ اگر کرس ہیون کے خلاف پراسیکیوشن سروس نے مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا تو وہ حکومت کا حصہ نہیں رہ سکیں گے اور انہیں مستعفی ہونا پڑے گا۔