شام سے متعلق قرارداد ویٹو، مغرب کا اظہارِ تاسف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں چین اور روس کی جانب سے شام میں تشدد کے خاتمے کے بارے میں قرارداد کو ویٹو کیے جانے کے بعد سفارتکاروں میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

امریکیوں کا کہنا تھا کہ دو ممالک نے شام کے لوگوں کو بیچ دیا ہے۔ فرانس نے الزام عائد کیا کہ یہ ممالک دمشق کی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ برطانیہ کا کہنا تھا کہ چین اور روس نے عرب دنیا کی جانب پیٹ موڑ لی ہے۔

اس کے جواب میں روس کے سفارتکاروں نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک شام میں اُس انقلاب کے ذریعے حکومت بدلنا چاہتے ہیں جس کی پشت پناہی وہ خود کر رہے ہیں اور جسے عرب لیگ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

چین کا موقف ہے کہ اس طرح دباؤ ڈالنےسے شام میں تفرقہ اور بڑھے گا اور یہ مسئلے کے حل میں کسی طرح مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اس قرارداد میں عرب لیگ کے اُس مطالبے کی حمایت کی گئی تھی کہ شام کے صدر بشارالاسد اقتدار کی منتقلی کے عمل میں اپنے نائب کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔

سنیچر کو ہونے والی ووٹنگ میں روس اور چین کے علاوہ سلامتی کونسل کے دیگر تیرہ اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

دوسری جانب حمص شہر جہاں شام کی فوج نے شدید بمباری کی تھی میں موجود بی بی سی کے نامہ کا کہنا ہے کہ شہر مںی وقفے وقفے سے گولیاں چل رہی ہیں۔

حمص میں موجود باغی جنگجوؤں نے انہیں بتایا ہے کہ شہر میں جہاں حزبِ مخالف کا کنٹرول ہے وہاں فوجی ٹینک اور گولہ بارود پہنچایا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا گیا ہے کہ ٹینکوں کی بمباری سے مہندم ہونے والے عمارتوں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں اور ہلاک ہونے والوں سے متعلق پچاس سےدو سو کے درمیان متضاد تعداد سامنے آ رہی ہے۔

شام کی حکومت نے حمص شہر میں کسی بڑے حملے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔

اگرچہ ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی تاہم الجزیرہ اور العربیہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں درجنوں لاشیں زمین پر پڑی دکھائی دی ہیں۔

قرارداد پر ووٹنگ سے قبل روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروو نے کہا تھا کہ اگر شام میں تشدد کی مذمت کے لیے نیم تیار شدہ قرارداد پر ووٹنگ ہوتی ہے تو یہ ایک متنازع معاملہ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے شام کے صدر بشار الاسد سے بات چیت کے لیے دمشق جائیں گے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے حمص میں تشدد کی کارروائیوں کو قتلِ عام قرار دیا ہے اور فوج پہ الزام لگایا ہے کہ انہوں نے گزشتہ گیارہ ماہ سے جاری فسادات کے اس تلخ ترین باب میں خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا۔

حکومت نے ان الزامات کر تردید کرتے ہوئے کہا کہ مخالف گروہ حکومت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی صدر بارک اوباما نے حمص پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر الاسد نے اپنے لوگوں پر ایک ناقابلِ بیان ضرب لگائی ہے، انہیں استعفٰی دے دینا چاہیے اور شام میں شفاف جمہوری انتخابات کا انعقاد ہونا چاہیے۔

شام میں مختلف حکومت مخالف گروہوں کی سرپرست تنظیم سیریئن نیشنل کونسل کا کہنا ہے کہ حمص میں دو سو ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ حکومت نے رہائشی علاقوں پر بھی گولے داغے ہیں۔

شام کی قومی کونسل نے ایک بیان میں دنیا بھر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان فسادات کو روکنے کی کوشش کریں تاکہ بےگناہ شامی عوام کا خون خرابا روکا جا سکے۔

حمص صدر بشار الاسد کے خلاف بغاوت میں شامل ہونے والے ابتدائی شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر حکومت مخالف احتجاج کا مرکز بن گیا ہے۔ شام کی فوج سے منحرف ہونے والے بہت سے فوجیوں نے بھی حمص میں پناہ لی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تازہ ترین فسادات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں خالدیہ کے رہائشی علاقے میں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق خالدیہ کا ہسپتال تباہ ہو گیا ہے اور تقریباً تیس سے زیادہ مکانات بھی زمین بوس ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اقوام متحدہ میں شام کے بحان کا حل بڑھ رہا ہے

برطانیہ میں موجود شام کے انسانی حقوق سے متعلق مبصر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے ضلع خالدیہ میں گولے داغے جس کی وجہ سے وہاں عمارتوں میں آگ لگ گئی۔ انہوں نے شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے عرب لیگ کے منصوبے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

شام کا معاملہ سلامتی کونسل میں

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے میں حالیہ دنوں میں شام کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روسی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اس قرارداد میں ترمیم کی ضروت ہے تاکہ ایسا تاثر نہ بن سکے کہ اقوام متحدہ ایک خانہ جنگی میں کسی بھی فریق کی حمایت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد میں صدر الاسد کے مخالف مسلح گروہوں سے نہ ہونے کے برابر مطالبات کیے گئے ہیں۔

ادھر جرمنی، برطانیہ اور مصر میں شام کے سفارتخانوں پر مظاہرین کے دھاوا بولنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پولیس کے مطابق برلن میں تقریباً بیس مظاہرین زبردستی شام کے سفارتخانے میں گھس گئے اور دفاتر کو نقصان پہنچایا۔ جرمن ٹی وی پر سفارتخانے کی ایک کھڑکی سے حکومت مخالف جھنڈا لہراتا دکھایا گیا جبکہ عمارت کے بیرونی حصے میں دیواروں پر شامی حکومت کے محالف نعرے لکھے دکھائے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمنی میں موجود شامی سفارتخانہ

لندن میں بھی شام کے سفارتخانے کے باہر تقریباً ڈیڑھ سو مظاہرین سنیچر کے روز جمع ہو گئے جن میں سے پانچ کو عمارت میں زبردستی داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

قاہرہ میں بھی مظاہرین نے شام کے سفارتخانے کی عمارت میں گھس کر ساز و سامان کو شدید نقصان پہنچایا اور عمارت کے کچھ حصوں کو نذرِ آتش بھی کر دیا۔

شام میں گزشتہ ایک سال سے صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ نے شام میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہزار چار سے تجاوز ہونے کے بعد کہا تھا کہ مرنے والے افراد کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔

شام کی حکومت کا دعوٰی ہے کہ مسلح گرہوں اور دہشتگرد کے خلاف کارروائیوں میں ان کے کم از کم دو ہزار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں

اسی بارے میں