ایران کے معاملے میں اسرائیل کے ساتھ ہیں، اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اسرائیل کے خدشات بجا ہیں۔

امریکی صدر نے این بی سی ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’اسرائیل نے ابھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی بھی کارروائی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے تاہم امریکہ اور اسرائیل ایران کے معاملے میں شانہ بشانہ کام کریں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی طرح اسرائیل بھی سمجھتا ہے کہ ایران کو اپنا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ختم کر دینا چاہئیے۔

ایران پر حملہ، تباہ کن نتائج برآمد ہونگے

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ یہ مسئلہ سفارتی طریقے سے حل ہوجائے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات کی میز سے ہٹ کر اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ خلیج میں کسی قسم کی فوجی کارروائی سے امریکہ پر بہت اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرنے سے تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے فوجی ابھی تک افغانستان میں موجود ہیں، اس لیے ہم اس مسئلے کا سفارتی حل چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے اور خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔‘

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے بین القوامی براردی کو متحرک کیا ہے لیکن ایران کی جانب سے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ (ایران) یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی حاصل کر رہے ہیں، ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے لیکن جب تک یہ پروگرام جاری ہے میرا خیال ہے کہ اسرائیل کی تشویش بالکل صحیح ہے اور ہماری بھی۔‘

براک اوباما نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے سفارتی حل کے لیے دباؤ ڈالنا جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں