حماس، الفتح کے اتحاد کی اسرائیلی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نتین یاہو نے کہا کہے کہ فلسطینی حکام کو حماس کے ساتھ معاہدے یا پھر اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ انتخابات کے دوران عبوری حکومت کے قیام کے لیے فلسطینی گروہوں حماس اور فتح کے درمیان ہونے والے معاہدے نے، اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے امکانات ضائع کر دیے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامِن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ حماس ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس کا مقصد اسرائیل کی تباہی ہے اور اسے ایران کی مدد حاصل ہے۔

’فلسطینی انتظامیہ کو حماس کے ساتھ معاہدے یا پھر اسرائیل کے ساتھ امن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ حماس اور امن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔‘

اس سے قبل حماس اور فتح کے درمیان طے پایا تھا کہ عبوری حکومت، موجودہ صدر محمود عباس کی نگرانی میں قائم ہو گی۔

دونوں جماعتوں کے سربراہان محمود عباس اور خالد مشعال نے اس معاہدے کو فلسطینی عوام کے لیے ایک نیا موقع قرار دیا تھا۔

گزشتہ ماہ اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصے بعد بات چیت کا سلسلہ بحال ہوا مگر اس میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

رام اللہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسن کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس کا شدید اسرائیلی اور امریکی مخالفت کے باوجود اس معاہدے کو آگے بڑھانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان مذاکرات میں کوئی خاص کامیابی کی امید ہے۔

صدر عباس اور حماس کے رہنماء خالد مشعال اپریل دو ہزار گیارہ سے قطر میں ایک مفاہمتی معاہدے کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد غزہ اور مغربی کنارے میں چار سال قبل بننے والی دو مختلف حکومتوں کو ایک کرنا ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے الفتح اور حماس نئے وزیرِاعظم کے لیے موزوں نام ڈھونڈ رہے تھے اور بظاہر اب محمود عباس کے نام پر اتفاق سے انہوں نے بیچ کا راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

محمود عباس اب صدر اور وزیرِاعظم دونوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ بہت سے فلسطینیوں پر واضح نہیں کہ یہ کام کیسے چلے گا۔

محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ نئی متحدہ حکومت تشکیل دیں گے جو کہ اس سال کے آخر میں ہونے والے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں انتخابات میں حصہ لے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں حریف اس بار سیاسی یکجہتی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ تاہم اس معاہدے کے طے پانے میں زیادہ وقت لگنا دونوں طرف موجود اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔

الفتح کے اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ نئی حکومت کا اعلان اٹھارہ فروری کو قاہرہ میں کیا جائے گا۔

امید ہے کہ نئی حکومت آزادامیدواروں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی۔

خالد مشعال کا کہنا تھا ’ ہم اپنے لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں ہم پرانے زخموں کو مٹانے کے بارے میں سنجیدہ ہیں ۔۔۔ اسرائیلی قبضے کے خلاف کوششیں جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپس میں سیاسی بنیادوں پر اتفاق پیدا کرنا ہوگا۔‘

اپریل میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق متحدہ عبوری حکومت نے پارلیمانی اور صدرارتی انتخابات کی تیاری کرنا ہوگی۔

انتخابات مئی میں متوقع ہیں مگر خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فلسطینی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے اس کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔

تاریخی طور پر الفتح فلسطین کی قومی جدوجہد کا اہم ترین سیاسی حصہ رہی ہے مگر جنوری سنہ دو ہزار چھ میں اسلامی مسلح گروہ حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔

ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت کا عالمی سطح پر بہت سے ممالک نے بائیکاٹ کیا۔

سنہ دو ہزار سات میں ہی الفتح اور حماس نے بڑھتے ہوئے اندرونی اختلافات کے پیشِ نظر اتحاد کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسی سال جون کے مہینے میں حماس نے طاقت کے استعمال سے غزہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ غزہ اور مغربی کنارہ دو علیحدہ حکومتوں کے پاس آ گئے اور اسرائیل اور مصر نے غزہ کا محاصرہ شدید تر کر دیا تھا۔

اسی بارے میں