خلیجی ریاستوں سے شام کے سفیر بے دخل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر الاسد نے روسی وزیرِ خارجہ کو یقین دلایا کہ وہ استحکام کے لیے کسی بھی کوشش میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔

خلیجی عرب ریاستوں نے شام کے سفیروں کو بے دخل کرنے اور شام میں موجود اپنے سفارتکاروں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

خلیجی تعاون کی کونسل کا کہنا ہے کہ شام نے گیارہ ماہ سے جاری خون ریزی کو روکنے اور بحران کے حل کے لیے عرب لیگ کی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ اقدام شامی حکومت کی جانب سے شورش زدہ شہر حمص میں جاری شدید حملے اور روسی حکام کے دورہء دمشق کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

خلیجی تعاون کی کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’رکن ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شام سے اپنے سفیروں کو واپس بلائیں گے اور اسی طرح شام کے سفیروں سے کہا جائے گا کہ وہ فوری طور پر واپس چلے جائیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’شامی حکومت کی جانب سے بحران کے حل کے لیے تمام کوششوں کو مسترد کرنے اور خونریزی کے خاتمے کے لیے عرب لیگ کے تمام پرخلوص کوششوں کو ضائع کردینے کے بعد ان لوگوں (شام کے سفیروں) کے لیے یہاں رُکنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا‘۔

خلیجی تعاون کی کونسل کا کہنا ہے کہ ان کا تمام عرب ریاستوں سے مطالبہ ہے کہ عرب لیگ کے آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اس سے قبل امریکہ نے بھی پیر کے روز شام میں موجود اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا جبکہ کئی یورپی ریاستوں نے بھی شام میں تعینات اپنے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔

ادھر شام کے صدر بشارالاسد نے ایک مرتبہ پھر وعدہ کیا ہے کہ وہ ملک میں جاردی تشدد کو ختم کرکے حزب مخالف سے بات چیت کریں گے اور سیاسی اصلاحات لائیں گے۔ یہ یقین دہانی انہوں نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو سے ملاقات میں دی جو شام کے دورے پر ہیں۔

روسی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ صدر الاسد فوری اقدامات کی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں۔

تاہم شام میں حزبِ مخالف کے گروہوں کا کہنا ہے کہ صدر الاسد کھوکھلے وعدے کر رہے ہیں جبکہ امریکہ نے بھی اس اعلان کو مشکوک قرار دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بھرپور کوشش کر رہا کہ شام میں خانہ جنگی کو روکا جا سکے کیونکہ اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے کہا ہے کہ شام کے بحران کا حل عرب لیگ کے بتائے ہوئے منصوبے کے مطابق ہونا چاہیئے۔ اس سے پہلے روس اور چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔

سرگئی لارو سے ملاقات کے بعد شام کے میڈیا نے صدر بشار الاسد کے حوالے سے کہا ہے کہ ’وہ (صدر اسد) استحکام کے لیے کسی بھی کوشش میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘

حمص میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ شامی فوج نے ایک دن کے وقفے کے بعد دوبارہ بھاری مشین گنوں سے فائرنگ اور مارٹر حملے شروع کر دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روسی ساخت کے ٹینکوں کوشہر کہ وسط کی طرف بڑھتے دیکھا گیا ہے تاہم جیسا کہ شہریوں کا خدشہ ہے کسی قسم کی زمینی کارروائی کے آثار دکھائی نہیں دے تھا۔

حمص شہر پر جمعے کے روز شروع ہونے والے حملے میں سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق صرف پیر کے روز پچانوے افراد کی ہلاکت کی ہوئی جبکہ منگل کے روز پندرہ لوگ مارے گئے۔

خبر رساں ادارے ثنا کے مطابق شام کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے۔

دمشق کے قریبی قصبے زبادانی اور حما شہر سے بھی کشیدگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اسی بارے میں