شام کے بحران کا حل عرب لیگ کے منصوبے میں ہے: روس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیر اور منگل کی درمیانی شب بھی حمص پرگولہ باری کا سلسلہ جاری رہا

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو نے کہا ہے کہ شام کے بحران کا حل عرب لیگ کے بتائے ہوئے منصوبے کے مطابق ہونا چاہیئے۔

دمشق میں اپنے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ شام عرب لیگ کے مبصرین کے بڑے مشن کے لیے تیار ہے اور یہ وہی ہے جو مغرب چاہتا تھا۔

دمشق میں روسی وزیرِ خارجہ کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ان کا دورہ اقوامِ متحدہ میں شام پر اس قرار داد کے بعد ہو رہا ہے جس میں روس اور چین نے ویٹو کیا تھا۔

روس شام کا بڑا حمایتی ہے اور اس نے حال ہی میں سلامتی کونسل میں شامی صدر سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبے پر مشتمل قرارداد ویٹو کی تھی جس پر اسے مغربی ممالک کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

دریں اثناء شامی فوج کی جانب سے حکومت مخالف سرگرمیوں کا مرکز سمجھے جانے والے شہر حمص کو نشانہ بنانے کا سلسلہ چوتھے روز بھی جاری ہے۔

اس کارروائی میں اب تک سینکڑوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

حمص میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو خدشہ ہے کہ شدید گولہ باری کے بعد اب شامی فوج زمینی حملہ کر سکتی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے روسی وزیرِ خارجہ کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ روسی وزیرِ خارجہ اس موقع کو صدر الاسد کی حکومت پر یہ واضح کرنے کے لیے استعمال کریں گے کہ وہ کس قدر تنہا ہو چکے ہیں اور یہ کہ وہ عرب لیگ کے منصوبے سے فائدہ اٹھائیں اور اقتدار منتقل کر دیں‘۔

دورے سے قبل روسی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ شام اس لیے جا رہے ہیں کیونکہ روس شام کی صورتحال کو جلد از جلد مستحکم ہوتا دیکھنا چاہتا ہے‘۔

حمص میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطاق پیر اور منگل کی درمیانی شب بھی حمص پرگولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس میں رہائشی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ان کے مطابق رات کی تاریکی میں حمص کے شہری سرکاری فوج کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کو اجتماعی قبور میں دفناتے رہے اور اس دوران بھی ان پر گولہ باری کی گئی۔

پال وڈ کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق شامی فوج حمص سے ایک کلومیٹر دور موجود ہے جس کے بعد شہریوں میں زمینی حملے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیر کو تمام دن سینکڑوں کی تعداد میں شیل اور مارٹر گولے فائر کیے گئے۔

شامی حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج کی جانب سے رہائشی علاقوں پر گولہ باری کی اطلاعات درست نہیں اور پیر کو حمص میں سرکاری فوج نے دسیوں دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے۔

ادھر امریکہ نے شام میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا ہے اور امریکی سفیر رابرٹ فورڈ نے اپنے عملے کے ہمراہ دمشق چھوڑ دیا ہے۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے پیر کو سفارتخانہ بند کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں دمشق میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کیونکہ ہمیں، اپنے عملے کی سکیورٹی کے بارے میں تحفظات تھے جو دور نہیں کیے گئے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کئی ہفتوں سے شامی حکام سے بات چیت کر رہے تھے کہ سفارتخانے کے اردگرد کا کنٹرول ہمیں دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا، اس لیے ہم نے اپنی سرگرمیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ سفارتکار فورڈ، عملے کے ہمراہ، دمشق سے روانہ ہو چکے ہیں اور عمارت کا جھنڈا اتار دیا گیا ہے‘۔

پیر کو بھی سارا دن حمص سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حمص شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پیر کو تمام دن سینکڑوں کی تعداد میں شیل اور مارٹر گولے فائر کیے گئے۔

ایک عینی شاہد دانی عبدالدائم نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج حملے کے دوران پہلی مرتبہ راکٹوں کا استعمال کر رہی ہے اور صبح سے شام تک جس علاقے میں وہ موجود ہیں، تین سو راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’یہاں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے اس گھر پر کسی بھی وقت راکٹ گر سکتا ہے‘۔

اسی بارے میں