اتر پردیش: انتخابات کے لیے سخت سکیورٹی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مجموعی طور پر آٹھ سو سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے پہلے مرحلے کی پولنگ بدھ کو ہوگی جس کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ریاست میں سات مراحل میں پولنگ کرائی جائے گی تاکہ پورا عمل آزادانہ اور منصفانہ انداز میں مکمل کرایا جاسکے۔

بدھ کو پہلے مرحلے میں پچپن حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے جہاں مجموعی طور پر آٹھ سو سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں اور تقریباً پونے دو کروڑ لوگوں کو حق رائے دہی حاصل ہے۔

یہ حلقے اودھ اور مشرقی اترپردیش کے سیتاپور، بارہ بنکی، فیض آباد، امبیڈکر نگر، بہرائچ، شراوستی، بلرام پور، گونڈا، سدھارتھ نگر اور بستی اضلاع میں واقع ہیں۔

ریاست کی تقریباً تمام چار سو تین نشستوں پر چار جاعتوں یعنی حکمراں بہوجن سماج پارٹی، سابقہ اسمبلی کی دوسری سب سے بڑی جماعت سماجوادی پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ کانگریس نے راشٹریہ لوک دل کے ساتھ اتحاد کیا ہے جسے مغربی اترپردیش میں جاٹوں کے غلبے والے علاقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے۔

کل کی پولنگ بہوجن سماج پارٹی کے لیے سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دو ہزار سات کے انتخابات میں بی ایس پی نے ان اضلاع میں شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے پچپن میں سے تیس نشستیں جیتی تھیں۔ ریاست میں تقریباً دو دہائی کے سیاسی عدم استحکام کے بعد بی ایس پی قانون ساز اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی پہلی جماعت تھی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں حالات کافی بدل گئے ہیں۔ دو ہزار سات میں بی ایس پی براہمن، دلت اور مسلم ووٹ کو متحد کرنے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس فارمولے کو ’سوشل انجینئرنگ‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ کہا جارہا ہے کہ اس کے لیے اقتدار میں واپسی کی راہ کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوگی۔

مسلمانوں کی حمایت کے لیے بی ایس پی، سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے کیونکہ تقریباً سوا سو حلقوں میں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران اب تک بدعنوانی اور ترقی سب سے اہم موضوع رہے ہیں اور تمام پارٹیوں نے اپنے انتخابی منشوروں میں کچھ ایسے وعدے کیے ہیں جنہیں پورا کرنا شاید ان کے لیے ممکن نہ ہو لیکن باربری مسجد اور رام جنم بھومی جیسے تنازعات کا معمولی طور پر ہی ذکر کیا گیا ہے حالانکہ اجودھیا میں بھی اسی مرحلے میں پولنگ ہوگی۔

کانگریس کی انتخابی مہم کی کمان راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے اور ان کے لیے بھی پہلے مرحلے کی پولنگ ایک سخت آزمائش ہوگی کیونکہ دو ہزار سات میں کانگریس نے یہاں صرف تین نشستیں جیتی تھیں۔

ان حلقوں میں تقریباً سات ہزار پولنگ بوتھ حساس قرار دیے گئے ہیں اور حفاظتی انتظامات سنبھالنے کے لیے نیم فوجی دستوں اور پولیس کے دو لاکھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

ووٹوں کی گنتی چھ مارچ کو کی جائے گی۔

اسی بارے میں