شام میں عرب لیگ مشن کی بحالی پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عرب لیگ کے سربراہ نبیل الاعرابی نے بتایا ہے کہ وہ شام میں مبصرین کے مشن کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں: بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ عرب لیگ شام میں اپنے مشن کی بحالی پر غور کررہا ہے اور اس سلسلے میں اس نے اقوامِ متحدہ سے مدد بھی طلب کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شام پر اقوامِ متحدہ کی قرارداد پر اتفاقِ رائے میں تباہ کن ناکامی نے شام کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ کا محاذ کھولنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

گزشتہ ہفتے عالمی برادری شام کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہی تھی تاہم روس اور چین نے اس بابت لائی جانے والی قرارداد کو مسترد کردیا تھا۔

شام میں سکیورٹی فورسز ملک میں حزبِ اختلاف کے ٹھکانوں کو مسلسل نشانہ بنارہی ہیں۔

تواتر کے ساتھ کئی دنوں کی بمباری کے بعد حمص شہر میں کئی سو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں بان کی مون نے کہا ’مجھے خوف ہے کہ جس طرح کی سفاک درندگی کا ہم حمص شہر میں مظاہرہ دیکھ رہے ہیں جہاں شہریوں پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے، یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں بد سے بدتر کا نقیب ہے۔‘

بان کی مون کا کہنا تھا کہ انہیں عرب لیگ کے سربراہ نبیل الاعرابی نے بتایا ہے کہ وہ شام میں مبصرین کے مشن کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا سلسلہ وہاں جاری تشدد کے باعث رک گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نبیل اعرابی نے اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ سے مدد مانگی ہے اور تجویز دی ہے کہ شام میں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا مشترکہ مشن خصوصی مشترکہ ایلچی کے ساتھ بھیجا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نبیل الاعرابی نے تجویز دی ہے کہ شام میں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کا مشترکہ مشن خصوصی مشترکہ ایلچی کے ساتھ بھیجا جائے

انہوں نے کہا ’آنے والے دنوں میں ہم اس معاملے پر مزید بات کریں گے اور سلامتی کونسل سے مشورہ کریں گے۔ ہم ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ہم بہتری لانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔‘

اس سے قبل امریکہ نے روس کا وہ مطالبہ مسترد کردیا تھا جس میں اس نے شام کی حکومت اور حزبِ اختلاف سے بات چیت شروع کرنے کے لیے کہا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے کا کہا تھا کہ صدر بشارالاسد بات چیت کا موقع ضائع کرچکے ہیں۔

تاہم روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے منگل کو دمشق کے دورے کے دوران کہا تھا کہ صدر بشارالاسد تشدد کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کے اس بیان کو شام میں حزبِ مخالف نے مسترد کردیا تھا اور تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔

اُدھر شہر حمص کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر لگاتار پانچویں روز بھی شدید ترین بمباری کی زد میں رہا ہے۔

انسانی حقوں کے کارکنوں کے مطابق نئی شیلنگ سے پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسی بارے میں