امریکہ: ہم جنس پرستوں کی شادی کا بِل منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاست کے ایوان میں اس بل کے حق میں پچپن جبکہ مخالفت میں تینتالیس ووٹ ڈالے گئے

امریکی ریاست واشنگٹن میں قانون دانوں نے ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت ریاست میں ہم جنس پرستوں کی باہم شادیوں کو قانونی قرار دیا گیا ہے۔

ریاست واشنگٹن میں اس بل کے منظور ہونے کے بعد یہ امریکہ کی ساتویں ریاست ہے جہاں ہم جنس پرستوں کو باہم شادی کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہوگی۔

ریاست کے ایوان میں اس بل کے حق میں پچپن جبکہ مخالفت میں تینتالیس ووٹ ڈالے گئے۔ ایک ہفتہ قبل ریاست کی سینیٹ یعنی ایوانِ بالا نے بھی اس بل کی منظوری دی تھی۔

ڈیموکریٹس جماعت سے تعلق رکھنے والے ریاست واشنگٹن کے گورنر کِرس گریگوئر توقع ہے کہ اگلے ہفتے بل کے مسودے پر دستخط کر کے اسے قانونی شکل دیں گے۔

ریاست واشنگٹن میں اس بِل کی منظوری سے ایک روز قبل ہی کیلیفورنیا کی ایک عدالت نے ہم جنس پرستوں کی باہم شادیوں پر پابندی کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

امریکہ کی ریاستوں نیویارک، کنیکٹیکٹ، آئیوا، میساچوئسٹ، نیو ہمشائر، ورمونٹ، اور واشنگٹن ڈی سی میں ہم جنس پرستوں کی شادیاں پہلے ہی قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔

ریاست نیو جرسی میں توقع ہے کہ قانون دان اگلے ہفتے ہم جنس پرستوں کی شادی کے معاملے پر ووٹ دیں گے جبکہ ریاست مین میں اس پر نومبر کے مہینے میں ووٹنگ کا امکان ہے۔

جبکہ ہم جنس پرستوں کی شادی کے معاملے میں ریاست شمالی کیرولائنا اور منیسوٹا میں ووٹنگ اس سال کے آخر تک ہونے کا امکان ہے۔

ریاست واشنگٹن میں اگر یہ بِل قانون کی شکل اختیار کرلیتا ہے تو گورنر کی جانب سے دستخط کے نوّے روز کے بعد یہ نافذ العمل ہوگا۔

اس بِل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس بِل کے قانون بننے سے پہلے وہ ہم جنس پرستوں کی باہم شادی کے خلاف مہم چلائیں گے تاکہ اس قانون کو تبدیل کردیا جائے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں واشنگٹن یونیورسٹی کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں معلوم ہوا تھا کہ تینتالیس فیصد افراد ہم جنس پرستوں کی باہم شادیوں کو قانونی شکل دینے کے حامی ہیں جبکہ بائیس فیصد ہم جنس پرستوں کے لیے یکساں حقوق کی بات کرتے ہیں تاہم انہوں نے کھل کر ان کی باہم شادیوں کی بات نہیں کی۔

اسی بارے میں