مالدیپ: سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد نشید کے استعفے کے بعد نائب صدر وحید حسن نے صدر کے عہدے کا حلف لے لیا تھا۔

مالدیپ کے سابق صدر محمد نشید کی جماعت کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ فوجداری مقدمات کی سماعت کرنے والی ایک عدالت نے سابق صدر کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا ہے۔

یہ خبر محمد نشید سمیت درجنوں افراد کے مالے میں ایک مظاہرے کے دوران زخمی ہونے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے منگل کو محمد نشید نے مالدیپ کے صدر کے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں مسلح پولیس اور فوجی اہلکاروں نے بغاوت کر کے ’بندوق کی نوک‘ پر استعفٰی دینے پر مجبور کیا تھا۔

اگرچہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ محمد نشید کے خلاف کیا الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مالدیپ کی مالدوین ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر کے علاوہ سابق وزیرِ دفاع کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم مالدیپ کے نئے پولیس سربراہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انہیں سابق صدر کے خلاف کسی وارنٹ کے جاری کیے جانے کی خبر نہیں ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ محمد نشید کے اہلِخانہ مالدیپ چھوڑ کر سری لنکا چلے گئے ہیں۔ سری لنکن صدر کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے محمد نشید کی اہلیہ اور بیٹی کے کولمبو پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے سابق صدر نے اس وقت استعفٰی دیا جب ایک سینئیر جج کو ہٹائے جانے پر سکیورٹی اہلکار حزبِ اختلاف کے مظاہرین کے ساتھ جا ملے تھے۔

محمد نشید کے استعفے کے بعد نائب صدر وحید حسن نے صدر کے عہدے کا حلف لے لیا تھا۔

اس سے قبل باغی پولیس افسران کے ایک گروپ نے دارالحکومت میں سرکاری ریڈیو سٹیشن پر قبضہ کرکے سابق صدر معمون عبدالقیوم کے حق میں پیغام نشر کرنے شروع کر دیے تھے۔ اس کے علاوہ عمارت میں متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں