شام: دمشق میں بریگیڈیئر جنرل قتل

تصویر کے کاپی رائٹ

شام کے ریاستی ٹیلی ویژن چینل کے مطابق سنیچر کے روز دمشق میں ہامش ملیٹیری ہستال کے ڈائریکٹر برگیڈیئر جنرل ڈاکٹر عیساء الکھولی کو ان کے گھر کے باہر ہلاک کر دیا گیا۔

بی بی سی کے جم موئر کا ہمسایہ ملک لبنان سے کہنا تھا کہ حالانکہ شام میں جاری فسادات میں کئی فوجی افسروں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم کسی اعلٰی فوجی اہلکار کی یہ پہلی ہلاکت ہے۔

کسی بھی گروہ نے ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق حمص میں ٹینکوں اور توپخانے کی بمباری میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاکتیں بابا عمر نامی ضلعے میں ہوئیں جسے حکومت مخالف مظاہرین کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

علاقے کے رہائیشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے قریبی علاقے انشات میں بھی دھماکوں اور بھاری ہتھیاروں سے کی گئی فائرنگ کی آوازیں سنیں ہیں۔

ایک ہفتے سے جاری محاصرے اور گولہ باری کے بعد حمص شہر میں صورتحال ابتر ہو رہی ہے اور بنیادی ضروریات کی چیزیں ختم ہو رہیں ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی شام کی حکومت پر فسادات روکنے کے لیے دباؤ کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔

سعودی عرب ایک قرارداد کی حمایت کر رہا ہے جس میں تمام فریقین سے تشدد روکنے کو کہا گیا ہے اور صدر بشر الاسد کو اقتدار چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

یہ قرارداد اس قرارداد سے بہت ملتی جلتی ہے جسے روس اور چین نے حال ہے میں ویٹو کے ذریعے منسوخ کر دیا تھا۔

ادھر شام کے دوسرے بڑے شہر حلب میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم از کم اٹھائیس افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق بم دھماکے سیکیورٹی فورسز کے زیر استعمال عمارت کے باہر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں فوجی اہلکار اور عام شہری دونوں ہی شامل ہیں۔

وزارتِ صحت کے حکام نے دھماکوں میں اٹھائیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

شامی حکومت نے اس حملے کا الزام دہشتگرد تنظیموں پر عائد کیا ہے جبکہ حزبِ اختلاف نے کہا ہے کہ حکومت ایسی حرکتوں سے حکومت مخالف مہم کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شام کی باغی ملیشیا فری سیئرین آرمی کے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کے بارے میں متضاد اطلاعات ملی ہیں۔ ملیشیا کے ایک ترجمان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ ایک اور ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے میں شامی حکومت کا ہاتھ ہے۔

فری سیرئن آرمی کے نائب رہنما کرنل ملک الکردی نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ وہ حلب میں فوج کے خفیہ اداروں کی عمارت میں سکیورٹی فورسز اور حکومت کی حامی شبیہہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب یہ افراد جمعہ کی صبح مظاہروں کو دبانے کے لیے نکل رہے تھے تو ایف ایس اے کے دو گروہوں نے ان دو عمارتوں کو دستی بموں اور چھوٹے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

کرنل الکردی کے مطابق ’پرتشدد جھڑپوں کے بعد عمارت میں ایک دھماکہ ہوا۔ پہلے پہل ہمیں پتہ نہیں چلا کہ یہ کیا تھا اور ہم سمجھے کہ یہ ہمارے آپریشن روکنے کی کوشش ہے‘۔

ایف ایس اے کے ایک اور ترجمان کرنل ماہر نعیمی نے خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ مجرم حکومت حمص میں ہمارے بچوں کو مار رہی ہے اور حلب میں دھماکے کر کے حمص میں جاری کارروائی سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے‘۔

حلب شام کا وہ شہر ہے جہاں حکومت مخالف تحریک کے دوران چھوٹے پیمانے پر ہی مظاہرے اور پرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف کے کارکنوں نے کہا ہے کہ حمص شہر کے کئی علاقوں میں ایک ہفتے سے جاری شامی فوج کی شدید بمباری کے نتیجے میں کم از کم چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حمص شام کا تیسرا بڑا شہر ہے اور یہ گزشتہ گیارہ ماہ سے صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج کا مرکز تصور کیا جارہا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال مسلسل دگرگوں ہے۔

اسی بارے میں