عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں بھی ڈاکٹر عافیہ کی سزا کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں

امریکہ میں چھیاسی برس قید کاٹنے والی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف ان کے وکلاء نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں اپیل کی ہے جس میں ان کے خلاف از سر نو مقدمہ چلائے جانے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ اپیل جمعہ کو نیویارک کے مین ہیٹن میں ایک تین رکنی وفاقی عدالت کے ججوں کے سامنے ڈاکٹر عافیہ کی وکیل ڈان کارڈی نے پیش کی۔

ڈاکٹر عافیہ پر الزام تھا کہ انہوں نے افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور انہی کی رائفل سے حملہ کیا اور انہیں نیویارک کی ایک وفاقی عدالت نے ستمبر دو ہزار دس میں چھیاسی سال قید کی سزا سنائی تھی۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور امریکی حکومت کی طرف سے نامکمل گواہی پر انہیں سزا دی گئی ہے۔

نیویارک سے نامہ نگار حسن مجتبیٰ کے مطابق عافیہ صدیقی کی وکیل نے اپنے دلائل میں یہ بھی کہا کہ ان کی موکلہ کو نفسیاتی ماہرین مقدمہ لڑنے کے لیے ذہنی اور نفسیاتی طور نااہل قرار دے چکے تھے لیکن اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ چلا کر انہیں چھیاسی برس کی سزا دے دی گئی۔

ڈان کارڈی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف از سر نو مقدمہ چلایا جائے کیونکہ بقول ان کے اس مقدمے میں ایف بی آئی نے ناقابلِ اعتبار گواہی پیش کی تھی جس پر ڈاکٹر عافیہ کو سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔

استغاثہ کے وکیل نے ڈاکٹر عافیہ کی سزا کے حق اور ان کی پیش کی جانیوالی اپیل کے خلاف جوابی دلائل میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف ناقابل ترید شواہد و گواہی پیش کی گئی اور وہ مقدمہ چلائے جانے کے لیے ذہنی طور قابل تھیں۔

استغاثہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی فوج و حکومت کے اہلکاروں کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ کیا اور حملے کے وقت وہ کہتی رہیں کہ وہ امریکہ سے نفرت کرتی ہیں۔

استغاثہ اور دفاع کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

ڈاکٹر عافیہ کی اپیل کی سماعت کے موقع پر عدالت کے باہر ان کی رہائي کیلیے مظاہرے بھی جاری رہے جن میں نیویارک میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائي کمیٹی کے ارکان اور عام پاکستانیوں کے علاوہ جنگ مخالف کارکن بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں