شام:مشترکہ امن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ NA
Image caption عرب لیگ کے مبصر مشن کو بھی ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے

عرب لیگ نے شام میں گزشتہ گیارہ ماہ سے جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے وہاں اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کی مشترکہ امن فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ اتوار کو قاہرہ میں عرب لیگ کے ممبر ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

اس اجلاس میں تیار کی جانے والی قرارداد تاحال باقاعدہ طور پر جاری نہیں کی گئی لیکن بی بی سی نے اس کا مسودہ دیکھا ہے۔

قرارداد کے مسودے میں شامی حکومت کے ساتھ تمام سفارتی تعاون ختم کرنے اور حکومت مخالف گروہوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

منظور شدہ قرارداد میں گزشتہ ماہ سے معطل شدہ عرب لیگ کے مبصر مشن کو بھی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔عرب لیگ کا مبصر مشن شام میں قیامِ امن کی کوششوں میں ناکام رہا تھا اور اس کی سرگرمیوں کو جنوری کے آخر میں معطل کر دیا گیا تھا۔

اس مبصر مشن کے سربراہ سوڈان سے تعلق رکھنے والے جنرل محمد الدبی نے بھی اتوار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔محمد الدبی کو ایک متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے اور حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپ دارفور میں ان کے اقدامات پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

عرب لیگ نے یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے بارے میں پیش کی گئی قرارداد کے ویٹو کیے جانے کے بعد تیار کی ہے۔

عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم ’اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہے گی کہ وہ شام میں جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کی مشترکہ امن فوج کی تشکیل کا فیصلہ کرے‘۔

اس سے قبل اجلاس کے آغاز پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے کہا تھا کہ عالمی سفارتکاری کی ناکامی کی وجہ سے تنظیم پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ ہم پر لازم ہے کہ تشدد کے بھیانک سلسلے کو روکنے کے لیے ہم فوری طور پر ہر قسم کے اقدامات کریں‘۔

دھر عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے شام میں حکومت مخالف احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹرایمن الظواہری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ شام میں حکومت کے مخالفین کو مغربی ممالک یا عرب ممالک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے اور انہوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ شام میں احتجاج کرنے والوں کی مدد کریں۔

انہوں نے شامی حکومت کو ایک سرطان زدہ حکومت قرار دیا جو کہ عوام کو دبا رہی تھی۔ خیال رہے کہ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ شام میں حالیہ بم دھماکوں میں القاعدہ ملوث ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد توقع ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کا اجلاس بھی ہوگا جس کے رکن ممالک نے حالیہ ہفتے میں اپنے ملکوں سے شام کے سفیروں کو بے دخل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر الاسد پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

خلیجی تعاون کونسل اور عرب لیگ کے رکن سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک عبوری قرارداد پیش کی ہے جو اس قرارداد کے مسودے سے مماثلت رکھتی ہے جسے روس اور چین ویٹو کرچکے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ عبوری قرارداد عرب لیگ کے امن منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے جس کے تحت شام کے صدر بشارالاسد سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اقتدار اپنے نائب صدر کے حوالے کریں اور ملک میں حزبِ اختلاف کے ساتھ مل کر قومی حکومت تشکیل دینے کے لیے راہ ہموار کریں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی شام پر پیر کو بحث کرے گی جس سے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی ہائی کمشنر نوی پلے بھی خطاب کریں گی تاہم اس وقت تک عبوری قرارداد پر ووٹنگ کی توقع نہیں ہے۔

جنرل اسمبلی میں قرارداد کو ویٹو کرنے کا حق کسی بھی رکن ملک کو حاصل نہیں ہے تاہم جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی قراردادوں کی قانونی حیثیت نہیں جیسا کہ انہیں سلامتی کونسل کے اجلاس میں منظوری کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

اسی بارے میں