’شام کی حکومت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کونسل کی جانب سے شام کی صورتحال پر قدم نہ اٹھانے کے باعث شام کی حکومت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

عالمی تنظیم کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نوی پلے نے اقوامِ متحدہ کے مندوبین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی کونسل کی کسی معاہدے پر پہنچنے میں ناکامی کے باعث شامی حکومت کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف بھرپور قوت استعمال کرے۔

نوی پلے نے اس ماہ کے آغاز میں روس اور چین کی جانب سے شام کے خلاف سکیورٹی کونسل کی قرارداد کو ویٹو کرنے کا ذکر کیا۔ اس قرارداد میں شام کے صدر بشار الاسد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

’قرارداد پر متفق ہونے کی ناکامی کے باعث شامی حکومت مظاہرین کے خلاف مزید بھرپور انداز سے کارروائی کرے گی۔ مجھے حمص میں جاری مظاہرین کے خلاف کارروائی پر شدید افسوس ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حمص میں صورتحال بہت خراب ہے۔

نوی پلے نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق کی کوشش ہے کہ وہ شام میں ہونے والی ہلاکتوں کا ریکارڈ رکھ سکیں لیکن پچھلے دو ماہ میں یہ اعداد و شمار رکھنے نہایت دشوار ہو گئے ہیں۔

’ہمیں کوئی شک نہیں ہے کہ شام میں ہلاکتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پچھلے سال مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں سات ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن شامی حکومت کا کہنا ہے کہ کم از کم دو ہزار سکیورٹی فورسز کے اہلکار ’مسلح گروہوں اور دہشت گردوں‘ کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام کے اقوامِ متحدہ میں مندوب بشر جعفری نے نوی پلے کے بیان کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی حکومت دہشت گردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے۔

’چند مسلح گروہوں نے عمارتوں میں دھماکہ خیز مواد بچھا رکھا ہے۔ یہ کوئی پرامن مظاہرے نہیں ہیں بلکہ یہ پرتشدد مظاہرے ہیں۔‘

اسی بارے میں