قیمتوں میں اضافہ، ’کروڑوں بچے متاثر ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بین الاقوامی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے پچھلے سال خوراک کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث ترقی پذیر ممالک میں لاکھوں والدین نے اپنے بچوں کی خوراک میں کمی کردی۔

امدادی تنظیم نے یہ بات اپنی رپورٹ میں کہی ہے جس میں بھارت، بنگلہ دیش، پیرو، پاکستان اور نائیجیریا میں سروے کیا گیا۔

تنظیم کے مطابق یہ وہ پانچ ممالک ہیں جہاں دنیا میں غذائی قلت سے متاثر بچوں کی آدھی تعداد رہتی ہے۔

تنظیم کے مطابق چھ میں ایک خاندان کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے بچوں کا سکول چھڑوا کر اپنے ساتھ کام پر لگا لیا تاکہ منگائی میں خوراک پوری کی جا سکے۔

بین الاقوامی تنظیم کے مطابق خوراک کی کمی کے باعث اگلے پندرہ برسوں میں پانچ سو ملین بچے جسمانی اور ذہنی طور پر متاثر ہوں گے۔

سیو دی چلڈرن کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بچوں میں غذائی قلت میں اضافہ ہوا ہے اور اس وجہ سے بچوں کی اموات پر قابو پانے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

سیو دی چلڈرن کی جانب سے بھارت، پاکستان، نائیجیریا، پیرو اور بنگلہ دیش میں کیے جانے والے سروے میں معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تر خاندان گوشت، دودھ یا سبزیاں نہیں خرید سکتے۔

تنظیم نے مزید کہا ہے کہ بچوں کی موت میں سے ایک تہائی اموات غذائی قلت کے باعث ہوتی ہیں لیکن عالمی سطح پر توجہ نہیں دی جاتی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک بلین خاندانوں میں سے ایک چوتھائی نے پچھلے سال اپنی خوراک میں کمی کی ہے۔ اور ایک تہائی والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کے لیے خوراک کم پڑتی ہے۔

اسی بارے میں