شام: نئے آئین پر ریفرنڈم کا حکم جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام کے ریاستی ذرائغ ابلاغ کے مطابق صدر بشار الاسد نے ملک میں نئے آئین کے مسودے پر چھبیس فروری کو رائے شماری کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

نئے آئین میں شام کے موجودہ آئین کی وہ شق نکال دی گئی ہے جس کے تحت برسراقتدار ’باعث پارٹی‘ کو ریاست اور معاشرے کا رہنماء ہونے کا حق حاصل تھا۔

حکومت مخالف قوتوں نے واضح کر دیا ہے کہ جب تک مظاہرین کے خلاف تشدد کے واقعات جاری ہیں، وہ حکومت کی جانب سے تمام سیاسی اقدامات کو مسترد کرتی رہیں گی۔

اس سے پہلے حمص کے مرکزی شہر میں تیل کی ایک پائپ لائن کو بم دھماکے میں نقصان پہنچا۔ یہ پائپ لائن شام کے مشرقی صحرائی علاقے میں واقع رومیلا آئل فیلڈز سے خام تیل حمص ریفائنری پہنچاتی ہے۔ شام میں دو بڑی آئل ریفائنریاں ہیں جن میں سے حمص ریفائنری ایک ہے۔

حکومت مخالف گروہوں کا کہنا ہے کہ پائپ لائن پر دھماکہ حکومتی گولہ باری کا دانستہ یا غیر دانستہ نتیجا ہے۔

دوسری طرف ریاستی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ یہ حملہ دہشت گرد گرہوں کی جانب سے ہوا۔

صدر اسد کی حکومت کے خلاف گزشتہ مارچ میں شروع ہونے والے احتجاج میں اس پائپ لائن کو کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

شام میں ایک نیا دور؟

اتوار کے روز صدر اسد کو نئے آئین کا مسودہ قومی کمیٹی نے بھجوا دیا۔ کمیٹی نے اس مسودے کی تشکیل میں چار ماہ کا عرصے استعمال کیا ہے۔

کاغذی طور پر تو مجوزہ آئین شام کو ایک جدید طرز کی جمہوری ریاست بنا دے گا جہاں کسی بھی صدر کو دو دورِ حکمرانی سے زیادہ کی اجازت نہ ہوگی اور ملک میں مختلف سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی اجازت ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیا آئین شام کو علاقائی طور پر بہترین جمہوریت کی مثال بنا دے گا۔

روس نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے مگر حکومت مخالف گروہ میں اس بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

یہ نیا آئین صدر اسد کی اصلاحات کی ایک کڑی ہے جو کہ انتہائی آہستہ رفتار سے لائی جا رہی ہیں اور جن سے زمینی حقائق میں زیادہ فرق نہیں پڑا۔

حکومت مخالفیں اور ان کے حمایتی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گزشتہ سال ایمرجنسی کے قانون کو غیر فعال کرنے کے باوجود ریاست کی جانب سے تشدد نہیں رکا۔

بی بی سی کے جم موئر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں رائے شماری مشکل لگتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حمص ریفائنری سے منسلک پائپ لائن پر بم حملہ کیا گیا۔

تونیسیا میں ’فرینڈز آف سیریا‘ نامی ایک اجلاس بھی حکومت مخالف گروہوں کی جانب سے منعقد کیا گیا ہے جو کہ اس ریفرینڈم کے لیے چنی گئی تاریخ کو ہوگا۔

اس اجلاس میں حکومت مخالف گروہ مغربی ممالک اور عرب دنیا میں اپنی حمایت کو پروان چڑہانے کی کوشش کریں گے۔ ایسا نہیں لگتا کہ مخالفین ان اصلاحات کے پیشِ نظر اس اجلاس کو ملتوی یا منسوخ کریں گے۔

اس وقت یہ بھی واضح نہیں کہ اس قدر قلیل عرصے میں کیا یہ ریفرینڈم شفاف اور منظم طریقے سے منعقد کروایا جا سکتا بھی ہے یا نہیں جبکہ ملک کا بیشتر حصہ فسادات کی زد میں ہے۔

صدر اسد کا کہنا ہے کہ نیا آئین منظور ہو جانے پر شام قانون سازی اور آئین بندی کے اہم ترین مرحلے کو اصلاحات کے ذریعے پار کر لے گا اور نئے قوانین شام کے ہر جز کے عوام کو ساتھ ملا کر ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔

حکام نے بتایا کہ نئے آئین کے تحت مذہب، پیشے یا علاقائی مفادات کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کی تشکیل کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے اخوان المسلمون اور شمال مغربی علاقوں کے کردش گروہوں کو جماعتیں بنانے سے روکا جا سکے گا۔

اسی بارے میں