چینی وزیرِ خارجہ شام جائیں گے

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں پر دنیا بھر میں تشویش ہے

شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرنے کے لیے چین اپنا ایک نمائندہ دمشق بھیج رہا ہے۔

چینی حکام کے مطابق نائب وزیرِ خارجہ جا جِن دمشق میں دو روزہ قیام کے دوران شامی حکام سے ملاقات کریں گے۔

جب چین نے روس کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی اس قرار داد کو ویٹو کیا تھا جس میں شام کے صدر کا استعفیٰ طلب کیا گیا تھا تو اسے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اپنا نمائندہ شام بھیج کر بیجنگ اس تنقید کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ وہ شام کی موجودہ حکومت کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہا اور اس کی ترجیح تشدد کا خاتمہ ہے۔

گزشتہ ہفتے شام کی حزبِ اختلاف کے کچھ افراد نے چین کے دارالحکومت میں چینی حکام سے مذاکرات کیے تھے۔

سرکاری طور پر بیجنگ کی پالیسی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ لیکن جوں جوں چین زیادہ اثر و رسوخ والا ملک بنتا جا رہا ہے اس کے لیے اس پالیسی پر قائم رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

شام کے معاملے میں بیجنگ کو مغرب کی نیت پر شک ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی ترجمانی کرنے والے اخبار پیپلز ڈیلی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیرونی طاقتوں نے مداخلت کی تو شام میں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اخبار کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کا مقصد شام میں ایک دوستانہ حکومت کو قائم کرنا ہے تاکہ ایران کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں