لیبیا:’مسلح ملیشیا استحکام کے لیے خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبیا میں کرنل قذافی کے آٹھ ہزار حامی مسلح گروہوں کی تحویل میں ہیں:اقوامِ متحدہ

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ لیبیا میں مسلح ملیشیا گروہ، سکیورٹی اور استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق، یہ ملیشیا گروہ، اُن باغی گروہوں کے باقیات ہیں جنہوں نے سابق صدر کرنل قذافی کی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھائے لیکن اب مغربی لیبیا میں یہ گروہ، بغیر کسی خوف کے سرگرمِ عمل ہیں اور شہریوں کی غیر قانونی حراست، تشدد اور قتل جیسے اقدامات میں ملوث ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ستمبر دو ہزار گیارہ سے اب تک کم از کم بارہ ایسے افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو ان مسلح گروہوں کی حراست میں تھے۔

یہ رپورٹ لیبیا کے سابق رہنما کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا ایک سال مکمل ہونے پر جاری کی جا رہی ہے۔

گزشتہ ماہ انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کی اعلٰی اہلکار نوی پلے نے کہا تھا کہ لیبیا میں مسلح گروہوں نے ساٹھ کے قریب حراستی مراکز میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد افراد کو قید کیا ہوا ہے جن میں سے بیشتر پر سابق حکمران کرنل قذافی کے وفادار ہونے کا الزام ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ لیبیا کے مسلح ملیشیا گروہ، تارکینِ وطن خصوصاً سیاہ فام افریقیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور عبوری حکومت اِنہیں روکنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی حاکمیت منوانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم نامہ نگاروں کے مطابق وہ ان مسلح گروہوں کو لگام ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔

گزشتہ ماہ بی بی سی نے لیبیا کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ اور دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں واقع شہر غریان میں ان مسلح گروہوں کی جانب سے کیے گئے تشدد کے ثبوت دیکھے تھے۔

جمعہ کو لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا ایک سال مکمل ہو رہا ہے اور اس موقع پر ملک میں جشن کا سماں ہوگا۔

تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نیٹو کے ساتھ مل کر قذافی حکومت کا خاتمہ کرنے والے باغی گروہوں میں سے کچھ اب حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں حراست کے دوران لوگوں کو الٹا لٹکانے، کوڑوں، تاروں، ڈنڈوں اور زنجیروں سے مارنے اور بجلی کے جھٹکے دینے کا بھی ذکر ہے۔

تنظیم کے سینیئر مشیر ڈوناٹیلا رویرا نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کوئی ان ملیشیاؤں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا رہا ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طرابلس میں ایک حراستی مرکز میں تفتیش کاروں کو چار ایسے قیدی ملے جنہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ رپورٹ لیبیا میں جنوری اور فروری میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے۔

لیبیا میں قذافی دور کے خاتمے کے تین ماہ بعد بھی مختلف علاقوں میں مسلح گروپوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور لیبیا کے عبوری قائد مصطفٰی عبدالجلیل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مسلح گروپوں سے ہتھیار نہ لیے گئے تو ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں