’انڈرویئر بمبار‘ کو عمر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکہ کی ایک عدالت نے دو ہزار نو میں امریکہ جانے والے ایک طیارے میں دھماکہ کرنے کی کوشش کرنے والے نائجیرین شہری کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

انہیں اس سزا کے دوران پیرول پر رہائی بھی نہیں مل سکے گی۔

پچیس سالہ عمر فاروق عبدالمطلب نے دسمبر دو ہزار نو میں کرسمس کے دن ہالینڈ سے امریکہ جانے والی امریکی ائرلائن کی پرواز میں خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے دھماکہ خیز مواد اپنے زیر جامے میں سی رکھا تھا۔ جب امریکی ہوائی جہاز ڈیٹرائٹ کے ہوائی اڈے پر اترنے لگا تو عمر فاروق کا زیر جامہ بم، مکمل طور پر، نہ پھٹ سکا اور صرف وہ خود زخمی ہوئے۔

مقدمے کے دوران انہوں نے دو سو اناسی افراد کو قتل کرنے کی کوشش اور دہشتگردی سمیت خود پر لگائے جانے والے آٹھ الزامات تسلیم کیے جس پر جج نے عمر فاروق کو زیادہ سے زیادہ قید کی سزا سنائی۔

امریکی جج کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگردی تھی جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس فیصلے کے بعد امریکی استغاثہ باربرا میکویڈ نے کہا کہ ’ آج مشی گن میں ڈیٹرائٹ کی کھلی عدالت میں، ایک دہشتگرد کو شکست ہوئی ہے جسے اپنے کیے کا کوئی افسوس نہیں۔ لیکن امریکی استغاثہ کا دفتر جج کا شکر گزار ہے جنہوں نے اسے زیادہ سے زیادہ قید کی سزا سنائی۔ بلکہ میرے خیال میں تو جج نے اسے چار مرتبہ عمر قید اور پچاس سال قید کی سزائیں سنائی ہیں‘۔

عمر فاروق کے اہلِ خانہ نے امریکی حکام سے سزا کے فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ’خدا کے شکرگزار ہیں کہ اس واقعے میں کسی کی جان نہیں گئی اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔ ہم امریکی محکمۂ انصاف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عمرقید کی سزا پر نظرِ ثانی کرے‘۔

بیان میں نائجیرین حکومت سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ امریکی حکام سے رابطہ کر کے نظرِ ثانی کا عمل یقینی بنانے کی کوشش کرے۔

اسی بارے میں