شام:چین کی فریقین سے تشدد کے خاتمے کی اپیل

چینی سفیر زائی جن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسٹر زائی کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے شام میں جلد ہی امن قائم ہوگا

شام کا دورہ کرنے والے چینی ایلچی نے فریقین سے تشدد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین شام کی حکومت کے آئینی ریفرنڈم اور اس کے بعد انتخابات کرانے کی منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔

وہیں شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے جب تک ملک میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے وہ اس ریفرنڈم کو قبول نہیں کر سکتے۔

ادھر دمشق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صدر الاسد کے مخالف احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے تین نوجوانوں کے جنازے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران فوج نے لوگوں پر براہ راست گولیاں چلائی تھیں جس سے متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے۔

چینی ایلچی زائی جن نے دمشق میں صدر بشار الاسد سے بات چیت کے بعد کہا کہ چین کو امید ہے کہ چھبیس فروری کو ہونے والا ریفرنڈم بخیروخوبی انجام پائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں استحکام کی بحالی کلیدی ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق زائی جن کا کہنا تھا کہ ’چین چاہتا ہے کہ شام کی حکومت، حزب اختلاف اور باغی فورا تشدد چھوڑ دیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’ہمیں امید ہے کہ شام میں جلد سے جلد امن کا قیام ہوگا اور اس سے شام کے عوام کا فائدہ ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ نئے آئین پر ریفرنڈم اور پھر آنے والے پارلیمانی انتخابات پرسکون ماحول میں مکمل ہوں گے‘۔

اس ملاقات کے بعد صدر الاسد کا کہنا تھا ’فی الوقت شام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں اس کے تاریخی کردار کو متاثر کیا جا سکے‘۔

جب چین کو روس کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی شام کے صدر کا استعفیٰ طلب کرنے کی قرارداد کو ویٹو کرنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چین اب اپنا نمائندہ شام بھیج کر اس تنقید کا رخ موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ وہ شام کی موجودہ حکومت کو بچانے کی کوشش نہیں کر رہا اور اس کی ترجیح تشدد کا خاتمہ ہے۔

گزشتہ ہفتے شام کی حزبِ اختلاف کے کچھ افراد نے چین کے دارالحکومت میں چینی حکام سے مذاکرات کیے تھے۔

سرکاری طور پر بیجنگ کی پالیسی ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا لیکن جوں جوں چین زیادہ اثر و رسوخ والا ملک بنتا جا رہا ہے اس کے لیے اس پالیسی پر قائم رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

شام کے معاملے میں بیجنگ کو مغرب کی نیت پر شک ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی ترجمانی کرنے والے اخبار پیپلز ڈیلی نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیرونی طاقتوں نے مداخلت کی تو شام میں تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں