’ایران کے جوہری عزائم سے نئی سرد جنگ کا خدشہ‘

فائل فوٹو
Image caption اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی پابندیاں ایران کو یورینیم کی افذودگی روکنے پر مجبور نہیں کر سکیں ہیں۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری عزائم مشرقِ وسطٰی میں ایک نئی سرد جنگ شروع کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو علاقے کی دوسری ریاستیں بھی اس کے نقشے قدم پر چل پڑیں گی۔

برطانوی وزیرِ خارجہ کے بقول ایران کے جوہری عزائم کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے ایک سنگین ترین پھیلاؤ کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

سنیچر کو برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایران پر عسکری حملے کے حق میں نہیں ہیں اور مغربی ممالک کو اپنا اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کا موجودہ لائحہِ عمل مذاکرات کے ساتھ جاری رکھنا چاہیے۔

ایران کی جانب سے جوہری معاملات پر مذاکرات کرنے پر رضامندی کے تازہ ترین اشارے کا امریکہ اور یورپی یونین نے محتاط خیر مقدم کیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے جمعہ کو امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک کا شبہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مغربی ممالک تہران پر جوہری پروگرام کے سلسلے میں مذاکرات اور یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنے مفادات کے لیے کام کرنے کا پورا حق ہے۔

اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی پابندیاں ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے پر مجبور نہیں کر سکی ہیں۔ تاہم ایران نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی چند جوہری تنصیبات زیرِ زمین منتقل کر دی ہیں۔

دوسری جانب ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنے کے لیے حملہ کرنے کے معاملے پر اسرائیل میں عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔

اسرائیلی سفارتکاروں اور ایرانی جوہری سائنسدانوں کی بیرونی ممالک میں ہلاکتوں کے بعد دونوں ممالک کے بیچ تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں