افغانستان: شدید سردی، مزید اموات کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں پندرہ سال میں بدترین سردی کی لہر جاری ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن نے کہا ہے کہ افغانستان میں پندرہ سال میں بدترین سردی کی لہر کے باعث بچوں کی اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امدادی تنظیم کے مطابق کابل کے قریب کیمپوں میں سردی کے باعث اب تک اٹھائیس بچوں کی موت ہو چکی ہے۔

امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے سردی سے بچاؤ کے لیے کیمپوں میں گرم کپڑے، کمبل اور پلاسٹک شیٹیں بانٹنا شروع کر دی ہیں۔

تاہم اس کا کہنا ہے کہ سردی میں مزید اضافے کی پیش گوئی کے باعث مزید کپڑے اور کمبلوں کی ضرورت ہے اور ان اشیاء کے لیے فنڈز بھی درکار ہیں۔

آئندہ ہفتے میں مزید برفباری کا امکان ہے اور درجہ حرارت منفی سترہ ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔

ہلاک ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے ’شدید سردی سے کابل کے ساتھ ساتھ شمالی اور وسطی افغانستان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں پہلے ہی بہت سے بچے خوراک کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب بےحد کمزور ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی ڈر ہے کہ برف پگلنے کے بعد ان کیمپوں میں کہیں سیلاب نہ آجائے۔‘

تنظیم نے ایک برطانوی مہم ’نِٹ ون سیو ون‘ کے تحت تیار کی جانے والی ہزاروں اونی ٹوپیاں بچوں میں تقسیم کی ہیں جو بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے مفید ہیں۔

کابل میں تنظیم نے دو ہزار سے زیادہ پلاسٹک شیٹیں بھی بانٹیں اور بچوں کے لیے کمبل بھی دیے ہیں۔

تنظیم کے افغانستان میں ڈائریکٹر باب گریبمن نے بتایا ’یہاں پر سردی بےرحم اور شدید ہے اور چھوٹے بچوں کو اس سے بچنے کے لیے سامان میسر نہیں ہے۔ تاہم کچھ بچوں کو بغیر ایندھن، خوراک، گرم کپڑوں اور جوتوں کے گزارہ کرنا پڑ رہا ہے۔‘

اسی بارے میں