ایران جوہری صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

وی اینا سے ایک سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران قم شہر کے قریب زیرِ زمین جوہری پلانٹ کی توسیع کی تیاری کر رہا ہے۔

سفارتکار کا کہنا تھا کہ بظاہر ایران ہزاروں جدید سنٹیفیوج کی تنصیب کرنے لگا ہے۔ اس سے یورینیم کی افزودگی کی رفتار بڑھائی جا سکتی ہے جو کہ تونائی کی پیداوار اور جوہری ہتھیاروں، دونوں کے لیے ضروری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے جوہری معاملات کے نگران ادارے آئی اے ای اے نے اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔

ادارے کے اہلکاروں نے اسی ہفتے مذاکرات کے لیے تہران جانا ہے۔ گزشتہ ماہ ادارے کے اہلکاروں کو چند جوہری تنصیبات کے دورے اور سائنسدانوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

وی اینا سے بی بی سی کی بیتھنی بل کا کہنا تھا کہ یہ ایک اور اشارہ ہے کہ ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام میں بین الاقوامی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود توسیع کر رہا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک کا شبہہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوامِ متحدہ کے جوہری معاملات کے نگران ادارے آئی اے عی اے کے اہلکاروں نے اسی ہفتے تہران جوہری پروگرام کے معاملے پر مذاکرات کے لیے جانا ہے۔

تین روز قبل ایران نے خود واضح کیا تھا کہ ان کے پاس پیچیدہ جوہری صلاحیت موجود ہے جس میں یورینیم کی تیز تر افزودگی کرنے والے سنٹیفیوج کی تعمیر بھی ہے۔

اس انکشاف کے پس منظر میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پہلے سی شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والے چند اہم واقعات مندرجہ ذیل ہیں:

1- سنیچر کے روز برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ایران کے جوہری عزائم مشرقِ وسطٰی میں ایک نئی سرد جنگ شروع کر سکتے ہیں۔ اس وقت علاقے میں صرف اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کا شبہہ پایا جاتا ہے۔

2- ٹوکیو میں بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ خارجہ ایہود براک کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف کمرتوڑ حد تک شدید اقدامات ہی ایران کو جوہری پروگرام چھوڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ایران پر اسرائیلی عسکری حملے پر غور نہیں کیا جا رہا۔

3- ایرانی جنگی بحری جہاز سنہ انیس سو انہتر کے انقلاب کے بعد صرف دوسری بار بحرائے روم میں داخل ہوئے ہیں۔ ایران کے بحری فوج کے سربراہ ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے ایرانی خبر رساں ادارے آئی آر این اے کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد طاقت کا دکھاؤ اور اسرائیل کے لیے ’امن کا پیغام‘ ہے۔

4- اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ بھارت، تھائی لینڈ اور جورجیا میں اسرائیلی سفارتخانوں پر حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

مغربی ممالک تہران پر جوہری پروگرام کے سلسلے میں مذاکرات اور یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنے مفادات کے لیے کام کرنے کا پورا حق ہے۔

اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی پابندیاں جن میں ایران کی تیل اور مالیاتی صنعت کو نشانہ بنایا گیا ہے، ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے پر مجبور نہیں کر سکی ہیں۔ تاہم ایران نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی چند جوہری تنصیبات زیرِ زمین منتقل کر دی ہیں۔

دوسری جانب عالمی میڈیا میں ایک بڑھتی ہوئی پیشنگوئی کی جا رہی ہے کہ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرئے گا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی فوج کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل بنی گانٹز نے ریاستی ٹی وی کو بتایا کہ اسرائیل کسی بھی حملے کے بارے میں فیصلہ خود کرئے گا اور اپنی حفاظت کا اسرائیل خود ضامن ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونیلن اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں وہ کئی معاملات پر اسرائیلی حکومت سے بات کریں گے جس میں ایران کا معاملہ بھی زیرِ بحث آئے گا۔

اسی بارے میں