’بیرونی پابندیاں معشیت کو کمزور کر رہی ہیں‘

شام میں احتجاج کی ایک فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ a
Image caption شام میں کئی مہینوں سے حکومت مخالف احتجاج ہورہے ہیں

شام کے ایک سرکردہ تاجر کا کہنا ہے کہ بیرونی پابندیوں کے سبب ملک کی معیشت کمزور ہورہی ہے اور رفتہ رفتہ حکومت بکھرتی جارہی ہے۔

شام کے سابق صدر کے بیٹے فیصل القدصی نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی کارروائی صرف چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور اس کے بعد ’لاکھوں افراد سڑکوں پر ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کی حکومت آخری وقت تک ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج گزشتہ گیارہ ماہ سے جاری ہے اور اس دوران ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس دوران سات ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ’مسلح گروہوں اور دہشت گردوں‘ کے خلاف کارروائی میں کم از کم دو ہزار سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

سنیچر کو دمشق میں ایک جنازے کے دوران سیکورٹی فورسز نے ماتمی جلوس پر گولیاں چلا دی تھیں جس کے بعد جنازے کا جلوس بڑے پیمانے پر مظاہرے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہاں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ ملک بھر میں بیس افراد ہلاک ہوئے۔

سنیچر ہی کو بی بی سی کے پروگرام ’ویکنڈ ورلڈ ٹوڈے‘ میں بات کرتے ہوئے فیصل القدصی نے کہا کہ بیرونی پابندیوں کے سبب ملک کی معیشت کمزور ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ ایران مالی امداد بھیج رہا ہے لیکن وہ کافی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں جاری احتجاج کی تحریک نے سیاحت کے شعبے کو تباہ کردیا ہے اور تیل کی درآمدگی کے علاوہ دیگر اشیاء کی درآمدگی پر پابندیوں سے گھریلو پیداوار بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا ’فوجی کارروائی مزید چھ ماہ چل سکتی ہے کیونکہ اب فوج تھک گئی ہے اور انہیں کوئی راستہ نہیں دکھائی دے رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’انہیں بیٹھ کر سوچنا ہوگا، کم از کم قتلِ عام تو بند کرنا ہوگا۔ جیسے ہی فوج لوگوں کو مارنا بند کردے گی لاکھوں لوگ سڑکوں پر اتر آئیں گے۔ فوج ہر طرح سے مشکل میں ہے۔‘

انہوں نے کہا ’حکومت روز بروز بے اثر اور کمزور ہورہی ہے اور حمص، ادلیب، ڈیرہ جیسے کشیدہ علاقوں میں وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کسی طرح کے جرم سے نمٹنے میں دلچسپی نہیں لے رہی اور اس سے حکومت پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا ’صدر الاسد کی حکومت آخر تک لڑے گی کیونکہ حکومت اور اس کے حامیوں کا ماننا ہے کہ شام کے خلاف ایک عالمی سازش ہورہی ہے۔‘

دریں اثناء سرکردہ سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز حمص کے ارد گرد سرگرم ہورہی ہیں۔

اسی بارے میں