سردی کی شدید لہر، کابل میں چالیس بچے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان میں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں پڑنے والی یہ شدید ترین سردی ہے۔

افغانستان میں گزشتہ ایک دہائی میں پڑنے والی شدید ترین سردی کی لہر کے باعث چالیس بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر بچے کابل شہر کے اُن کیمپوں میں رہ رہے تھے جو طالبان اور نیٹو فورسز میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرکے آنے والوں کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

رات کے وقت انتہائی کم درجہء حرارت میں یہ بچے سردی سے بچاؤ کے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ٹھٹھرتے رہے۔

اب ان کیمپوں تک کچھ مدد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سرد موسم میں خیموں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کے لیے افغان حکومت کی جانب سے مدد کے سُست اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

کابل شہر کے اطراف میں ایسی چالیس خیمہ بستیاں موجود ہیں۔ کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ برف کے بوجھ سے خمیے جھکے ہوئے ہیں اور کئی بچے شدید سردی میں بری طرح ٹھٹھر رہے ہیں۔ زیادہ تر بچے بخار اور سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔

مہاجرین کے لیے حکومتی وزیر ’جو ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔ وہ افغانستان کا مستبقل ہیں۔‘

ایک آزاد افغان رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ’غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہو گیا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے۔‘ حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ ’یہ سب منصوبہ بندی کی کمی کے باعث ہوا ہے۔ ہم قدرتی آفات کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔‘

فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں سردی کی شدید لہر کے باعث اٹھائیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

سرد موسم سے متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’شدید سردی سے کابل کے ساتھ ساتھ شمالی اور وسطی افغانستان بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں پہلے ہی بہت سے بچے خوراک کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب بےحد کمزور ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی ڈر ہے کہ برف پگلنے کے بعد ان کیمپوں میں کہیں سیلاب نہ آجائے۔‘

کابل میں تنظیم نے دو ہزار سے زیادہ پلاسٹک شیٹیں بھی بانٹیں اور بچوں کے لیے کمبل بھی دیے تھے۔

تنظیم کے افغانستان میں ڈائریکٹر باب گریبمن نے بتایا ’یہاں پر سردی بےرحم اور شدید ہے اور چھوٹے بچوں کو اس سے بچنے کے لیے سامان میسر نہیں ہے۔ تاہم کچھ بچوں کو بغیر ایندھن، خوراک، گرم کپڑوں اور جوتوں کے گزارہ کرنا پڑ رہا ہے۔‘

اسی بارے میں