قرآن نذرِ آتش کیے جانے پر نیٹو کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption قرآن کو جلائے جانے کے خلاف بگرام ہوائی اڈے کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کے امریکی کمانڈر نے غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی کے واقعے پر معافی مانگی ہے۔

ایک بیان میں جنرل جان آر ایلن نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

’جب ہمیں ایسے اقدامات کا علم ہوتا ہے تو ہم فوری مداخلت کر کے انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

قرآن کو نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات کے بعد بگرام ہوائی اڈے کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اپنے بیان میں امریکی کمانڈر نے کہا اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی جس کے مطابق بگرام ہوائی اڈے پر تعینات فوجیوں نے بڑے پیمانے پر اسلامی مذہبی مواد نذرِ آتش کیا جس میں قرآن بھی شامل تھا۔

بیان میں مزید کیا گیا ہے کہ ’بچ جانے والا مواد متعلقہ مذہبی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘

’ہم اس واقعے کی تفصیلی تحقیقات کر رہے ہیں اور ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں کہ آئندہ کبھی بھی ایسے واقعات دہرائے نہ جائیں۔ میں یقین دلاتا ہوں، میں وعدہ کرتا ہوں۔ یہ قطعی ارادی فعل نہیں تھا۔‘

جنرل ایلن نے واقعے پر افغانستان کے صدر، افغان حکومت اور افغانستان کے معزز شہریوں سے ’مخلصانہ طور پر معافی طلب کی ہے۔‘

گذشتہ برس امریکہ میں قرآن کو نذرِ آتش کرنے کی خبر پر افغانستان میں مسلسل احتجاج کے دوران اپریل میں ایک شخص ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں