افغانستان: قرآن جلانے پر مظاہرے، پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مظاہرین نے قرآن کے ادھ جلے نسخے اٹھا رکھے ہیں۔

افغانستان کے دار الحکومت کابل میں نیٹو افواج کے ہاتھوں قرآن کے نسخے جلائے جانے کے خلاف جاری احتجاج کے دوسرے دن کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

شمالی جلال آباد شہر میں بھی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔جلال آباد میں ایک ڈاکٹر نے بی بی سی ون کو بتایا کے ایک شخص ہلاک ہوا ہے اور دس افراد زخمی ہیں۔ کابل میں بھی ایک شخص ہلاک اور دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کابل امریکی فوجی اڈے کے باہر مظاہرین کے جمع ہونے پر وہاں گولیاں چلنے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

کابل میں پولیس کے ترجمان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کابل اور جلال آباد کو ملانے والی سڑک پر قائم فوجی اڈے کے باہر سینکڑوں لوگ جمع ہیں اور علاقے کی مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا ہے۔

مظاہرین نے قرآن کے ادھ جلے نسخے اٹھا رکھے ہیں۔ مطاہرین ’امریکہ کے لیے موت‘ کے نعرے لگا رہے ہیں اور امریکی اڈے پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔

ایک اٹھارہ سالہ نوجوان اجمل نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر امریکی اسی طرح ہماری توہین کریں گے تو ہم بھی شدت پسندوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔‘

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کم سے کم چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹح گارڈز ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں۔ یہ اطلاعات ہیں کے مطاہرین میں سے بعض طالبان کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔

منگل کے روز امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے بگرام ہوائی اڈے پر تعینات نیٹو کے فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کے نسخے جلائے جانے پر معافی مانگی تھی۔

جلائے جانے والے قرآن کے نسخوں کی راکھ اور ادھ جلے صفحات مقامی مزدوروں کو ملے تھے۔

منگل کے روز ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فوج نے ربڑ کی گولیاں چلائیں جس سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق یہ قرآن اس لیے قبضے میں لیے گئے تھے کیونکہ فوجی سمجھتے تھے کہ وہاں موجود قیدی انہیں پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ جنرل ایلن نے افغان عوام سے معافی مانگی ہے اور ایسے واقعات کو سختی سے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں