آسٹریلوی وزیرِ خارجہ عہدے سے مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جولیا گیلارڈ سنہ دو ہزار دس میں کیوِن رڈ کی وزارتِ عظمٰی سے سبکدوشی کے بعد ملک کی وزیراعظم بنی تھیں

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ کیوِن رڈ نے وزیراعظم کے ساتھ اختلافات کی قیاس آرائیوں کے بعد استعفٰی دے دیا ہے۔

انہوں نے اپنے استعفے کا اعلان امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس سے قبل انہوں نے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن سے ملاقات کی تھی۔

آسٹریلیا کی حکمراں لیبر پارٹی میں حالیہ کچھ ہفتوں سے قیادت کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔

جولیا گیلارڈ سنہ دو ہزار دس میں کیوِن رڈ کی وزارتِ عظمٰی سے سبکدوشی کے بعد ملک کی وزیراعظم بنی تھیں۔

قیادت کی رسہ کشی کے دوران کیوِن رڈ کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کی بازگشت سنائی دے رہی تھی جن کا کہنا تھا کہ کیوِن رڈ کا دفاع کرنے میں ان کی ناکامی انہیں کسی فیصلے تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوگی۔

آسٹریلیا کے ٹی وی چینلوں پر براہِ راست نشر کی جانے والی پریس کانفرنس کے دوران کیوِن رڈ نے کہا ’حقیقت اتنی سی ہے کہ اگر مجھے وزیراعظم جولیا گیلارڈ کی حمایت حاصل نہیں تو میں بطور وزیرِ خارجہ اپنی ذمہ داریاں انجام نہیں دے سکتا۔ لہذٰا میں سمجھتا ہوں کہ باعزت راستہ یہ ہی ہے کہ میں استعفٰی دے دوں۔‘

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا وہ جولیا گیلارڈ کی قیادت کو چیلنج کریں گے تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ وہ اگلے جمعہ کو امریکہ سے برسبین چلے جائیں گے۔

ان کے بقول وہ موجودہ وزیراعظم ’چھپ کر حملہ‘ کرنے میں ملوث نہیں ہیں۔

انہیں وزارتِ عظمٰی کے منصب سے ہٹائے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت جو کچھ ہوا وہ غلط تھا اور یہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

کیوِن رڈ نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی اعلان کرنے سے پہلے اپنی برادری اور اہلِ خانہ سے مشورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ وہ اگلے ہفتہ پارلیمان کے اجلاس سے پہلے ایسا کر سکیں گے۔

اسی بارے میں