افغانستان: مظاہرے جاری، مزید آٹھ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کو جلائے جانے کے خلاف افغانستان میں چوتھے روز بھی مظاہرے جاری رہے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

جمعہ کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد چار روز میں کُل بیس افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

افغان حکام کے مطابق سات افراد صوبہ ہرات میں ہلاک ہوئے جبکہ ایک شخص ضلع بغلان میں ہلاک ہوا۔

جمعہ کو مظاہرین نے ہرات میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے متعدد پولیس کی گاڑیاں جلادیں اور کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بتایا کہ کابل میں لوگ پانچ ٹولیوں میں مختلف مقامات کی جانب گئے جن میں نیٹو ہیڈ کوارٹر اور امریکی سفارتخانہ شامل ہے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ میں ایک شخص زخمی ہوا۔ اس کے علاوہ تقرباً تین سو مظاہرین کابل میں مرکزی فوجی تربیتی اڈے کی جانب گئے۔

افغانستان کے ضلع بغلان میں ایک ہزار مطاۃرین سڑکوں پر جمع ہو گئے اور امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ اسی طرح صوبہ غزنی میں چھ سو افراد گورنر کے دفتر کے باہر جمع ہوئے اور امریکی صدر براک اوباما کے خلاف نعرے لگائے۔

اس کے علاوہ ننگرہار، پکتیا، قندوز اور مزارِ شریف میں بھی مظاہرے ہوئے۔

دوسری جانب مظاہروں کے پیشِ نظر افغانستان میں تعینات جرمنی کی فوجیں تکھر صوبے میں موجود چھوٹے اڈے سے قندوز میں موجود بڑے اڈے میں منتقل ہو رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کو امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے کے واقعے پر معافی مانگی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے نام ایک خط میں اوباما نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ غیر ارادی طور پر پیش آیا۔

کابل میں بی بی سی کی نامہ نگار نے بتایا کہ امریکی صدر کی جانب سے واقعے پر معافی کے باوجود عوام کے غصے میں کمی نہیں ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال امریکی پادری نے امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں قرآن نذرِ آتش کردیے تھے۔ اس واقعے کے بعد پورے افغانستان میں مظاہرے شروع ہو گئے جس میں چوبیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں