یمن: صدر کے محافظ سمیت چھبیس افراد ہلاک

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن کے صدر کا عہدہ رواں ہفتے بروز منگل ابدراباہ منصور ہادی نے سنبھالا تھا جس کے فوراً بعد ملک کے جنوبی حصے میں تشدد کے واقعات سامنے آئے اور نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق جنوبی یمن میں ایک گاڑی کے دھماکے میں چھبیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ یمن کے صوبہ حضرالموت کے شہر مکلا میں واقع صدارتی محل کے باہر ہوا۔ تاہم ہلاک ہونے والے افراد میں ’ایلیٹ ریپبلیکن‘ نامی محافظ شامل ہیں۔

ایک فوجی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکہ ایک پک اپ گاڑی میں ہوا جسے ایک خودکش حملہ آور چلا رہا تھا۔

یہ دھماکہ یمن کے نئے صدر عبدالرب منصور ہادی کے حلف اٹھانے کے بعد پیش آیا ہے۔ منصور ہادی نے صدر کا عہدہ گزشتہ ہفتے منگل کو سنبھالا تھا جس کے نتیجے میں ملک کے جنوبی حصے میں تشدد کے واقعات سامنے آئے اور نو افراد ہلاک ہو گئے۔

واضح رہے کہ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح نے ملک بھر میں احتجاج کے دباؤ میں آ کر صدر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

یمن میں گزشتہ سال ہونے والے احتجاج اور مظاہروں کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے جنوبی اور مشرقی یمن میں مضبوط ٹھکانے بنانے کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

ٹیلی وژن پر نشر کی جانے والی ایک تقریر میں یمن کے نئے صدر نے کہا کہ وہ القاعدہ کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’سکیورٹی بحال نہ کرنے کی صورت میں ملک میں تباہی مچ جائے گی۔‘

امریکی خیرمقدم

امریکی صدر براک اوباما نے یمن کے نئے صدر کی حلف برداری کو سراہا ہے اور اسے ملک کا ’نیا آغاز‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ یمن کی جمہوریت کی جانب منتقلی میں اس کا ثابت قدم ساتھی ہے۔

انہوں نے امریکیوں کی جانب سے یمن میں کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے چھبیس افراد پر تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

براک اوباما نے کہا ’میں نے عبدالرب ہادی کو بتایا کہ یمن کے عوام نے اپنے ملک کے روشن مستقبل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ یمن کی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

اسی بارے میں