جرمنی اور فرانس نے بھی اپنا عملہ واپس بلالیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں اتوار کو بھی پرتشدد مظاہرے جاری رہے

افغانستان میں وزارتِ داخلہ کی عمارت میں دو سینئیر افسران کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور برطانیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فرانس اور جرمنی بھی افغانستان کی مختلف وزارتوں میں تعینات اپنے عملے کے اراکین کو واپس بلارہے ہیں۔

افغان حکام پچیس سالہ اُس پولیس اہلکار کو تلاش کررہے ہیں جس کے بارے میں یقین ہے کہ اس نے ہی ہفتہ کو کابل کی وزارتِ داخلہ کے دفتر میں دونوں اہلکاروں کو ہلاک کیا۔

فرانس اور جرمنی نے کہا ہے کہ وہ یہ اقدام سکیورٹی کے خدشات کے پیشِ نظر کررہے ہیں۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ کابل میں اس کا سفارتخانہ افغانستان کے اداروں میں تعینات اپنے مشیروں اور تربیت کاروں کو واپس بلارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عملے کے ارکان کو اس وقت تک افغانستان کے اداروں میں واپس نہیں بھیجا جائے گا جب تک حالات اس کی اجازت نہ دیں۔

جرمنی نے اپنے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کے اداروں اور وزارتوں میں جتنے جرمن اہلکار اور ماہرین تعینات ہیں انہیں واپس آجائیں۔

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے کے واقعے کے خلاف اتوار کو بھی پرتشدد مظاہرے کیے گئے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں پرامن رہنے کی اپیل کی اور ان کی اس اپیل کے چند گھنٹوں بعد ہی گرینیڈ کے ایک حملے میں کئی امریکی فوجی زخمی ہوگئے۔

افغانستان میں تعینات امریکی سفیر ریان کروکر نے کہا ہے کہ اس وقت افغانستان میں سخت کشیدگی کا ماحول ہے۔ ان کے بقول ’ہمیں تشدد کے ختم ہونے اور حالات کو معمول پر آنے کا انتظار کرنا چاہیے جس کے بعد ہی ہم اپنے معمول کے کام پر واپس آ سکیں گے۔‘

انہوں نے سی این این کو بتایا ’ابھی یہ فیصلہ کرنے کا وقت نہیں کہ اب ہمارا کام یہاں ختم ہوچکا۔ ہمیں اپنی کوششوں کو دوگنا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسی صورتحال پیدا کرنی ہوگی کہ القاعدہ کی واپسی ممکن نہ ہوسکے۔‘

اسی بارے میں