شام میں ریفرنڈم، تشدد کے واقعات میں تیس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شام میں جاری تشدد کے باوجود ملک میں ایک نئے آئین سے متعلق ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔

شام کے مختلف علاقوں میں تشدد کے باعث انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

نئے آئین کے تحت شام میں اگلے تین ماہ میں کثیرالجماعتی پارلیمانی انتخابات کروائے جائیں گے۔ تاہم حزبِ اختلاف کے گروہوں نے اتوار کو ہونے والے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرتے ہوئے صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک سال سے جاری عوامی بغاوت کے نتیجے میں صدر بشار الاسد نے اس ریفرنڈم کی تجویز پیش کی تھی جو ملک میں سیاسی اصلاحاتی منصوبے کا کلیدی حصہ ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق سنیچر کو ملک بھر میں تشدد کے مختلف واقعات میں اناسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

شام کی حکومت نے اس ریفرنڈم کے لیے تقریباً تیرہ ہزار پولنگ سٹیشنز کا بندوبست کیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری شورش کے دوران ایک صاف شفاف ریفرنڈم کا ہونا مشکل ہے۔

برطانیہ میں قائم شام کے انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اتوار کو حمص اور ہماء میں گولہ باری کے نتیجے میں تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شامی وقت کے مطابق یہ ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی اور اگلے بارہ گھنٹے تک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں