جلال آباد ہوائی اڈے پر خودکش حملہ، نو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان میں نیٹو فورسز کے ہاتھوں قرآن کے نسخے جلائے جانے کے خلاف ایک ہفتے سے پرتشدد احتجاج جاری ہے۔

مشرقی افغانستان میں جلال آباد کے ہوائی اڈے پر ایک خود کش کار بم دھماکے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے پر ہونے والے اس حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے نیٹو افواج کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے کا بدلہ قرار دیا ہے۔

جلال آباد ہوائی اڈہ شہری اور فوجی دونوں طرح کے طیاروں کی پروازوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عینی شاہدین نے ہوائی اڈے کے گیٹ پر کم سے کم چار تباہ شدہ گاڑیاں دیکھی ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا ہے کہ ’یہ حملہ ان فوجیوں سے بدلہ ہے جنہوں نے قرآن کو نذرِآتش کیا۔‘

کابل میں واقع بگرام ہوائی اڈے پر نیٹو اہلکاروں کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے کے خلاف افغانستان بھر میں کئی روز سے خون ریز احتجاج جاری ہے۔

اسی دوران افغان حکام اب بھی اُس پچیس سالہ افغان پولیس کے اہلکار کو تلاش کر رہے ہیں جس پر الزام ہے کہ اس نے سنیچر کے روز وزارتِ داخلہ کی عمات کے اندر نیٹو کے دو افسران کو گوکیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ افغان حکام کے مطابق اس شخص کا نام عبدالصبور ہے اور وہ صوبہ پروان کا رہنے والا ہے۔

ہلاک ہونے والے نیٹو افسران کی شناخت اب تک ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم یہ کہا جارہا ہے کہ یہ امریکی فوج کے کرنل اور میجر تھے۔

اطلاعات ہیں کہ حملہ آور نے نیٹو کے افسران پر بہت قریب سے فائرنگ کی جب وہ کابل میں سب سے زیادہ سکیورٹی رکھنے والی عمارتوں میں سے ایک کے محفوظ کمرے میں موجود تھے۔

اس حملے کے بعد نیٹو نے افغانستان کی تمام وزارتوں سے اپنے اہلکار واپس بلا لیے تھے۔ اتوار کے روز فرانس اور جرمنی نے بھی امریکہ اور برطانیہ کی پیروی کرتے ہوئے افغانستان کے سرکاری دفاتر سے اپنے شہری عملے کو واپس بلا لیا تھا۔

قرآن نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کے خلاف پھیلے اشتعال کو روکنے کے لیے افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنی عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

اتوار کے روز ٹیلی وژن پر خطاب میں حامد کرزئی نے قرآن جلائے جانے کی پُر زور الفاظ میں مذمت کی تاہم انہوں نے کہا ’ہم نے اپنے احساسات کا اظہار کر دیا ہے اور اب وقت ہے کہ ہم پرسکون ہو جائیں۔‘

اسی بارے میں