شام پر یورپی یونین کی مزید پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریڈ کراس کے طبی کارکن حمص میں ایک عارضی ہسپتال میں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں

شام میں احتجاج کو کچلنے کے لیے سرکاری کارروائی جاری ہے اور اسی دوران یورپی یونین نے شام پر مزید پابندیاں عائد کردی ہیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے شام پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں میں اثاثوں کا انجماد اور صدر بشارالاسد کے قریبی ساتھیوں کے بین الاقوامی سفر پر پابندی شامل ہے۔

ولیم ہیگ نے کہا ’ہم شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے عرب لیگ کی جانب سے بنائے گئے منصوبے کی حمایت کرنے کے لیے اپنے یورپی یونین کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘

قطر کے وزیرِ اعظم شیخ حماد بن جسیم الثانی نے کہا ’بین الاقوامی برادری شام کی حزبِ اختلاف کی مدد کے لیے وہ سب کچھ کرے جس کی ضرورت ہے جس میں انہیں اپنے دفاع کے لیے اسلحہ کی فراہمی بھی شامل ہو۔‘

انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ انہیں مسلح ہو کر اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور ہمیں ان لوگوں کی ہر طرح مدد کرنی چاہیے۔‘

شام میں مقامی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ حمص میں نواسی افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں انہتر افراد ایک چیک پوسٹ پر مارے گئے تاہم اس دعوٰی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے متاثرہ علاقے حمص میں زخمیوں کو نکالنے اور انہیں طبی امداد پہنچانے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

تاہم اطلاعات ہیں کہ حمص کے مضافاتی ضلع بابا امر میں ریڈ کراس کی مغربی میڈیا کے دو صحافیوں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کی گاڑیاں ان دونوں صحافیوں کو لینے کے لیے متاثرہ علاقے پہنچ گئی تھیں جو سرکاری فوج کے محاصرے میں ہے تاہم تشدد کے واقعات کے باعث گاڑیاں خالی ہاتھ واپس آگئیں۔

اس کے علاوہ شام میں فوج کی چالیس ہزار آبادی والے شہر بینش میں کارروائی جاری ہے۔

بنش شہر حزب اختلاف کے کنٹرول میں ہے۔ شہر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بظاہر فوج نے شہری آبادی پر فائرنگ کے لیے مارٹرز اور ہوائی جہاز مارگرانے والی توپوں کا استعمال کیا۔

اسی بارے میں