قاہرہ القاعدہ رہمنا کی گرفتاری پر ابہام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کیا سیف العدل اور ابراہیم مکاوی ایک ہی شخص ہے؟

مصر میں قاہرہ ہوائی اڈے پر حراست میں لیےگئے القاعدہ کے رکن کی شناخت کے بارے میں شک و شبہات سامنے آنے لگے ہیں۔

ریاستی ذرائع ابلاغ کے مطابق القاعدہ کے کمانڈر سیف العدل جن کا اصل نام محمد ابراہیم مکاوی ہے، پاکستان سے مصر آئے تھے۔

ایک شخص نے، جو کہ اپنا نام محمد ابراہیم مکاوی بتاتے ہیں، صحافیوں کو بتایا کہ وہ کبھی القاعدہ کے رکن تو تھے مگر وہ سیف العدل نہیں ہیں۔

سیف العدل اوسامہ بن لادن کے قریبی حلقے کے ایک اہم رکن تھے۔

مصری فوج کے سابق کرنل سیف العدل امریکی حکام کو سنہ انیس سو اٹھانوے کے کینیا اور تینزانیہ میں امریکی سفارتخانوں میں بم دھماکوں کے سلسلے میں مطلوب ہیں۔ وہ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے واقعات میں ملوث دہشتگردوں کی تربیت کے بھی ملزم ہیں۔

سیف العدل امریکی ایجنسی ایف بی آئی کی سب سے زیادہ مطلوب اشخاص کی فہرست میں ہیں اور ان کی حراست یا ہلاکت میں مدد کرنے والے کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کا انعام ہے۔

سیکیورٹی حکام نے مصری خبر رساں ایجنسی مینا کو بتایا کہ سیف العدل کو بدھ کے روز قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وہ پاکستان سے براستہ دبئی مصر آئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایشیا سے آنے والی تمام پروازوں کی نگرانی کی جا رہی تھی۔

خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق سیف العدل کو تفتیش کے لیے ’ہائیر سٹیٹ سیکیورٹی پروسیکیوشن‘ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں حراست میں کہاں رکھا گیا ہے۔

بی بی سی کے جان لیئن کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اور بظاہر مصری حکام کو یقین ہے کہ سیف العدل ایک ایسے شخص کا فرضی نام ہے جن کا اصل نام محمد ابراہیم مکاوی ہے۔

جس شخص کو قاہرہ میں حراست میں لیا گیا ہے اس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس کا نام محمد ابراہیم مکاوی ہے لیکن انہوں نے سیف العدل ہونے کی سختی سے تردید کی۔

البتہ ابراہیم مکاوی اب القاعدہ پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اگر مصری حکام کے پاس غلط شخص زیرِ حراست ہے تو یہ ان کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا کیونکہ ریاستی میڈیا اس واقع کو سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی کامیابی قرار دے چکا ہے۔

اسی بارے میں