لندن المپکس: ہڑتال کی دھمکی

برطانیہ کی سب سے بڑی یونین ’یونائٹ‘ کی جانب سے رواں سال لندن میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں کے دوران ہڑتال کی دھمکی برطانوی سیاسی قیادت نے مذمت کی ہے۔

یونائٹ کے لن میکلسکی نےگارڈین اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیول نافرمانی کی مہم کے ذریعے دو ہزار بارہ کے کھیلوں میں رکاوٹ ڈالی جا سکتی ہے۔

برطانوی نائب وزیرِاعظم نک کلیگ کا کہنا تھا کہ ایسے کسی اقدام سے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا ہوگا۔ لیبر پارٹی نے بھی لن میکلسکی پر تنقید کی۔

تاہم یونین کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ہڑتال کا کوئی مخصوص پلان نہیں ہے۔

نک کلیگ نے کہا کہ لیبر پارٹی کے رہنماء ایڈ ملی بینڈ کو لن میکلسکی کو منانا چاہیے۔ یونائٹ لیبر پارٹی کی سب سے بڑی امدادی یونین ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کی بیرنس سعیدہ وارثی نے بھی اس سوچ کی تائید کی اور کہا کہ ایسا اقدام کھلم کھلا خود عرضی ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جب ساری دنیا کی نظریں برطانیہ پر ہوں گی ایسے موقع پر ٹریڈ یونین کے سربراہ کا ہڑتال کے لیے کہنا شرمناک ہے۔

دوسری جانب لن میکلسکی کا کہنا تھا کہ اگر اولمپکس مقابلے ہمیں ایک موقع فراہم کر رہے ہیں تو ہمیں اس موقع پر نظر رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا برطانیہ میں پبلک سیکٹر ملازمین پر جو مشکلات ہیں، ان کے ہوتے ہوئے دنیا کا لندن آنا اور ان مقابلوں کا اس طرح انعقاد ہونا جیسے سب ٹھیک ہے، ایک ناقابلِ سوچ بات ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمارے طرزِ زندگی کو خطرہ ہے۔ ہو سکتا ہے تب تک یہ ’ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر بل‘ پاس کر دیا جائے یعنی ہم اپنی ’نیشنل ہیلتھ سروس‘ کی ممکنہ نجکاری دیکھ رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یونین اور عام عوام کو احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال کا مقصد ہماری شکایات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔

تاہم لیبر پارٹی کی نائب رہنماء ہیریٹ ہرمین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ہڑتال کی تجویز انتہائی غلط ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ مل کر بدھ کے روز لن میکلسکی سےان کی شکایات کے بارے میں ملاقات کی۔

بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار نارمن سمتھ کا کہنا تھا کہ یونائٹ کے ذرائع سے جب ان کے سیکرٹری جنرل کے بیانات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے امکانات بہت کم ہیں۔

اسی بارے میں