مصر سے سترہ غیر ملکی سماجی کارکن روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ اور مصر کے درمیان گیشدگی کا سبب بننے والے امریکیوں سمیت سترہ غیر ملکی جمہوریت پسند سماجی کارکن سفری پابندی اٹھائے جانے کے بعد قاہرہ سے قبرص پہنچ گئے ہیں۔

جمعرات کو امریکی فوج کا ایک ہوائی جہاز ان افراد کو قاہرہ سے لے کر قبرص روانہ ہو گیا تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ افراد کتنا عرصہ قبرص میں قیام کریں گے۔

امریکی، فلسطینی، ناروے، سربیا اور جرمنی کے یہ شہری غیر سرکاری تنظیموں کے لیے کام کرتے تھے اور ان پر مصر میں حکومت محالف اختجاجی مہم کے دوران گشیدگی پھیلانے کے عوض غیر قانونی فنڈزحاصل کرنے کے الزمات عائد کیے گئے تھے۔

ان الزامات کے بعد اس مقدمے کی سماعت کے لیے حکام نے ان کے مصر چھوڑنے پر پابندی لگا دی تھی۔

اس مقدمے کی وجہ سے امریکہ اور مصر کے تعلقات میں اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ امریکہ نے قاہرہ کو ایک عشاریہ تین ارب ڈالر کی مالی امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصر سے غیر ملکیوں کی روانگی کے باوجود غیر ملکیوں سمیت تینتالیس افراد کے خلاف مقامی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

امکان ہے کہ غیر ملکیوں کی غیر موجودگی میں بھی ان پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے جبکہ ان کے مصری ساتھیوں کو قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنی شہریوں کی فی کس تین لاکھ ڈالر کے مچلکے پر ضمانت کرائی، جن افراد کے مچلکے جمع کرائے گئے ان میں وہ امریکی بھی شامل ہیں جو سفری پابندیوں سے پہلے ہی مصر چھوڑ چکے تھے۔

قاہرہ میں پولیس نے گزشتہ سال دسمبر میں سترہ این جی اوز یا غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر پر چھاپہ مار کر وہاں سے دستاویزات اور کمپیوٹرز کو قبضے میں لے لیا تھا اور اس کے ایک ماہ کے بعد ان تنظیموں سے ارکان پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں۔

اسی بارے میں