شام میں تشدد بند ہونا چاہیئے: چین

شام تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کے علاقے بابا عمرو میں حالات بہت خراب ہیں

چین نے شام کی حکومت اور حزبِ مخالف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد ختم کریں اور بحران کا پرامن حل تلاش کریں۔

چین کی وزارتِ خارجہ سے جاری ایک بیان میں صدر بشار الاسد کی حکومت اور باغیوں سے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی شرائط کے مذاکرات شروع کریں جن کی سربراہی کوفی عنان کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام میں انسانی بنیادوں پر امداد کے پروگرام کی حمایت کرتا ہے۔

اس سے پہلے چین اور روس دونوں نے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف تشدد کے خاتمے کی قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ چین میں وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق شام کی صورتحال پریشان کن اور تشویش ناک ہے۔

ادھر شام کے شہر حمص میں موجود فلاحی تنظیم ریڈ کراس کا کہنا ہےکہ اسے امید دلائی گئی ہے کہ امدادی قافلے کو شورش زدہ ضلع بابا عمرو تک جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

آئی سی آر سی کے مطابق حکام نے انہیں بتایا ہے کہ علاقے میں ایسا دھماکہ خیز مواد بکھرا پڑا ہے جو تباہ نہیں ہوا اس لیے وہاں داخل ہونا خطرناک ہے۔

ریڈ کراس کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ شامی حکومت سے اتوار کے روز پھر بات کریں گے۔

اسی اثناء میں شام کے سرکاری ٹیلی وژن نے ایسے مناظر نشر کی ے ہیں جن میں بابا عمرو میں بڑے پیمانے پر تباہی دکھائی گئی ہے اور اس کا ذمہ دار غیرملکی شہہ پر سرگرم دہشت گرد گروہوں کو قرار دیا گیا ہے۔ بابا عمرو میں موجود ایک طالب علم نے بی بی سی کو بتایا کے علاقے میں دو دن سے بجلی، پانی اور خوراک دستیاب نہیں ہے۔

اسی بارے میں