صدارتی انتخابات، سینکڑوں مظاہرین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انتخابات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نتائج غیر متعین ہوں: تونینو پیکولا

روس میں پولیس نے صدارتی انتخاب میں مبینہ دھاندلی اور پوتن کی جیت کے خلاف مظاہرے کرنے والے ساڑھے پانچ سو مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والوں میں مظاہرین کے قائد ایلیکسی نولنی بھی شامل ہیں۔ تاہم ان کو بعد میں رہا کردیا گیا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ آٹھ سو افراد نے سینٹ پیٹرز برگ پر مظاہرہ کیا اور پولیس نے ان میں سے تین سو افراد کو حراست میں لیا۔ پولیس نے مزید ڈھائی سو افراد کو ماسکو میں گرفتار کیا۔

بین الاقوامی برادری نے ویلادمر پوتن کو صدارتی انتخابات جیتنے کی مبارک باد دی ہے لیکن انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔

ماسکو میں جہاں پشکن سکوائر میں پیوتن مخالف مظاہرے ہو رہے تھے وہاں دوسری جانب مینگ سکوائر پر ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پوتن کے حق میں مظاہرے کیے۔

اس سے قبل ’آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن‘ (او ایس سی ای) کے انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ روسی انتخابات میں واضح طور پر ولادیمیر پوتن کے حق میں دھاندلی کی گئی۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق وزیراعظم پوتن نے صدراتی انتخابات میں تریسٹھ فیصد ووٹ حاصل کیے۔

انتخابات میں وسیع پیمانے پر بےضابطگیوں کا دعوی کیا گیا ہے اور او ایس سی ای کا کہنا ہے کہ ولادیمیر پوتن کی شکست کا کبھی کوئی امکان ہی نہیں تھا۔

اپوزیشن گروہوں نے وزیرِاعظم پوتن کی فتح کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

او ایس سی ای کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی تھی، انتخابات کے عمل میں شروع ہی سے سنگین مسائل تھے اور ایک امیدوار ولادیمیر پوتن کے حق میں دھاندلی کی گئی۔

او ایس سی ایکے ترجمان تونینو پیکولا نے کہا کہ ’انتخابات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نتائج طے شدہ نہ ہوں لیکن روس میں ایسا نہیں ہوا۔ حقیقی طور پر تو مقابلہ ہوا ہی نہیں اور حکومتی وسائل کے بے جا استعمال سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ الیکشن کے حتمی فاتح کے بارے میں کبھی کوئی شک ہی نہ ہو‘۔

صدراتی انتخابات کا پس منظر دسمبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بارے میں شدید عدم اطمینان تھا۔ اس کی وجہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات ہیں۔

او ایس سی ای کا کہنا تھا کہ شہریوں اور امیدواروں کی جانب سے شفاف انتخابات کے مطالبے کی وجہ سے بڑی تعداد میں شہریوں نے انتخابات کی نگرانی کے عمل میں حصہ لیا۔

مگر ووٹوں کی گنتی کے مرحلے میں یہ شفافیت ختم ہونے لگی اور تقریباً ایک تہائی پولنگ مراکز کے بارے میں اس مرحلے پر شکایات موصول کی گئی ہیں۔

تنظیم نے روسی حکومت سے کہا ہے کہ وہ الزامات کی تفصیلی تحقیقات کروائیں۔

اس سے پہلے انتخابات کی نگراں، گولوس نامی ایک آزاد اور معروف روسی تنظیم نے بتایا کہ اسے دھاندلی کی تین ہزار شکایات موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انتخابات کو روس میں گزشتہ دس سال سے ہونے والے انتخابات کی نوعیت کا کہا جا سکتا ہے جن میں غیر معیاری سطح کا مقابلہ اور ریاستی مداخلت ہوتی ہے۔

دیگر الزامات میں شہریوں سے زبردستی ووٹ ڈلوانے کے اور لوگوں سے بار بار ووٹ ڈلوانے کے واقعات ہیں۔اس سلسلے میں انٹرنیٹ پر چند ویڈیوز بھی بطور ثبوت دکھائی جا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتوار کو اپنے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے پوتن جذباتی ہو گئے تھے

دوسری جانب وزیرِاعظم پوتن کی انتخابی مہم کے ذمہ دار ستانیسلو گوورخن نے ان انتخابات کو روس کی تاریخ کے شفاف ترین قرار دیا۔

اتوار کی رات کو ماسکو میں ہزاروں حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم پوتن نے کہا کہ انہوں نے انتخاب ایک ایماندار لڑائی کے بعد جیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم جیتیں گے اور ہم جیتے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مخالف مظاہروں کے باوجود ان کی جیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی ہم پر کوئی چیز مسلط نہیں کر سکتا۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں دو صدراتی ادوار کے بعد ولادیمیر پوتن نے وزیرےاعظم کا عہدہ سنبھال لیا تھا کیونکہ وہ آئینی طور پر تین بار مسلسل صدر نہیں بن سکتے تھے۔ اب وہ سنہ دو ہزار اٹھارہ تک صدر رہیں گے اور اس کے بعد صدرات کے لیے ایک بار پھر انتخاب لڑ سکیں گے۔

احتجاجی رہنماؤں نے نتائج کے ردِ عمل میں ہزاروں لوگوں سے سڑکوں پر نکل آنے کی درخواست کی ہے تاہم حکام نے قانونی طور پر ریلیوں میں شرکاء کی تعداد محدود کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں