شام کے نائب وزیرِ تیل مستعفی ہوگئے

شام کے نائب وزیر برائے تیل نے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت مخالف تحریک میں شامل ہو رہے ہیں۔

عبدالحسام الدین نے اپنے مستعفی ہونے کا اعلان سماجی روابط کی ویب سائٹ یو ٹیوب پر کیا۔

حکومت مخالف تحریک کے آغاز کے بعد وہ پہلے اعلیٰ عہدیدار ہیں جنہوں نے شام کے صدر بشار الاسد کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

یو ٹیوب پر جاری کیے گئے پیغام میں حسام نے کہا ہے ’میں نائب وزیر برائے تیل عبدالحسام حکومت کو چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں اور وزیر کے عہدے اور جماعت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں‘۔

پیغام میں مزید کہا گیا ہے ’میں حکومت مخالف تحریک میں شریک ہو رہا ہوں۔ یہ تحریک ناانصافیوں اور پرتشدد کارروائیوں کے خلاف ہے‘۔ اٹھاون سالہ حسام سنہ 2009 سے نائب وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔

حسام کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی سمیت کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بات امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہی۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی اقدام کا قانونی جواز واضح اور فوج کی حدود متعین ہونی چاہیئیں تاہم انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے کا سفارتی حل اب بھی امریکہ کی ترجیح ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کی امدادی امور کی سربراہ ویلری ایموس نے حمص کے دورے کے بعد کہا ہے کہ شہر کے حالات نہایت خراب ہیں اور حُمص کے کئی حصے مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بدھ کو شامی ہلالِ احمر کے رضاکاروں کے ہمراہ حُمص شہر کے سب سے شورِش زدہ حصے، بابا عمرو کا دورہ کیا۔

دورے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ بابا عمرو تو جیسے بند ہی ہو چکا ہے اور علاقے کی ویرانی سے لگتا یہی ہے کہ زیادہ تر رہائشی، نقل مکانی کر چکے ہیں۔

ایموس کی ترجمان امینڈا پٹ کا کہنا ہے کہ ’ویلری ایموس نے جن علاقوں کا دورہ کیا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے‘۔

شامی حکومت نے ایک ہفتے قبل ہی حمص شہر کا کنٹرول اس وقت سنبھالا ہے جب حکومت مخالفین نے حکمتِ عملی کے تحت اسے خالی کر دیا تھا۔

امدادی ٹیموں کو حمص میں داخل ہونے کے لیے کئی روز انتظار کرنا پڑا اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب وہ اس شہر میں داخل ہوئیں تو زیادہ تر لوگ شہر چھوڑ کر ان علاقوں میں جا چکے تھے جہاں امداد تقسیم کی جا رہی تھی۔

ویلری ایموس کو شام کی حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پورے ملک کا دورہ کر سکتی ہیں لیکن ان کو حکومت مخالفین کے علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ othar
Image caption ’ویلری ایموس نے جن علاقوں کا دورہ کیا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے تھے‘

انہوں نے شام کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی تنظیموں کو ان علاقوں میں جانے کی اجازت دی جایے جہاں لڑائی جاری ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اسے بابا عمرو میں امداد تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ آئی سی آر سی کے شام میں ترجمان حشام حسن نے کہا ’شام کی ہلالِ احمر بابا عمرو میں تقریباً پینتالیس منٹ رہی۔ وہاں پر لوگ پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر ان علاقوں میں جا چکے ہیں جہاں ریڈ کراس اور ہلالِ احمر نے امداد تقسیم کی ہے‘۔

شام میں اپوزیشن گروپوں کا کہنا ہے کہ بدھ کو ملک بھر میں انتالیس افراد پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے جن میں سے چھبیس حمص، چھ ادلیب، تین درعا اور چار دمشق اور الیپو کے نواح میں مارے گئے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران شام میں پرتشدد واقعات میں مارے جانے والوں کی تعداد ساڑھے سات ہزار سے زیادہ ہے۔

اسی بارے میں