ایران کا جواب کیا ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسرائیل ممکنہ طور پر تین راستے استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف فضائی کارروائی کر سکتا ہے

ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی حملے کی صورت میں وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کیا ہے اور ایسی کسی کارروائی کے خطے اور ایران کے اندرونی حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی اسرائیل کےخلاف براہ راست کارروائی کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈی سے تعلق رکھنے والے مارک فزپیٹرک کے مطابق ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کی ایئرفورس جو روسی ساخت کے مگ 29 طیاروں پرمشتمل ہے وہ اسرائیل کی جدید ایئرفورس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

ایران کے میزائل

مارک فزپیٹرک کے مطابق ایران کے میزائلوں، شہاب۔تین، غدر۔ون، کی مار سولہ سو کلو میٹر تک ہے لیکن ایران کے پاس ان میزائل کو داغنے کے لیے صرف چھ لانچر موجود ہیں۔

ایران کے ٹھوس ایندھن والے نئے میزائل، سجل ٹو بھی اسرائیل تک مار کر سکتا ہے لیکن ابھی تک وہ مکمل طور پر آپریشنل نہیں ہوا ہے۔

مارک فزپیٹرک کے خیال میں ایرن کے میزائیلوں کی نشانے پر مار کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے اور ان میزائلوں سے کسی فوجی ٹھکانے پر مار کرنا انتہائی مشکل ہے۔ غیر موثر میزائیلوں کی وجہ سے ایران اپنے کیمیکل یا بائیولاجکل ہتھیاروں کو موثر انداز میں استعمال نہیں کر سکے گا۔

مارک فزپیٹرک کے خیال میں ایران کی طرف سے اسرائیلی کارروائی کے جواب میں میزائلوں سے حملے کی حیثیت صرف علامتی ہوگی۔

ایران کے اتحادی

ایران کا سب سے اہم ہتھیار علاقے میں اس کے اتحادی ہو سکتے ہیں۔ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے پاس ہزاروں راکٹ لانچر ہیں۔

مارک فزپیٹرک کے خیال میں ایران اپنے خلاف کارروائی کی صورت میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے ہی موثر جواب دینے کی کوشش کرے گا۔

ایک اندازے کے مطابق لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے پاس دس ہزار سے زیادہ راکٹ لانچر ہیں اور ان میں کچھ تو ایران نے مہیا کیے ہیں۔

حزب اللہ کے پاس جو میزائل ہیں وہ پچیس کلو میٹر سے دو سو کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حزب اللہ کے پاس کم از کم دس سکڈ میزائیل بھی ہیں جو سات سو پچاس کلو گرام تک کے وار ہیڈ کے لیے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مارک فز پیٹرک کےمطابق فلسطینی تنظیم حماس بھی کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائیلوں سے اسرائیل پر حملہ کر سکتی ہے۔

ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری عدم استحکام میں اضافہ کر سکتی ہے اور یہ ایک بڑی علاقائی لڑائی کا نکتہ آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کی نیوی

ماہرین کےمطابق ایران کی نیوی موثر کارروائی کی اہلیت رکھتی ہے۔ ایران کی نیوی بڑے جہازوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ آبنائے ہرمز کو وقتی طور بند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکی نیوی کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صورت میں اس کے خلاف کارروائی کرے گا۔ تمام ماہرین متفق ہیں کہ امریکی نیوی آبنائے ہرمز کو کھلوا سکتی ہے۔لیکن ایسی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے خیال کارروائی کی صورت میں ایران اور اسرائیل کے مابین خفیہ آپریشن میں تیزی آ سکتی ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے بھی ایران اور اسرائیل کے مابین خفیہ آپریشن جاری ہیں

۔کارنیگی انسٹیٹوٹ میں کام کرنے والے ایرانی معاملات کےماہر کریم سجاد پور کے مطابق ایران اتنی کارروائی کرنا چاہے گا جس سے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو جائے اور اس سے عالمی معیشت پر منفی اثر پڑے اور امریکہ اور اسرائیل پر تنقید شروع جائے لیکن وہ معاملات کو اس نہج تک نہیں لے جائے گا کہ اس کے خلاف براہ راست کارروائی کا جواز پیدا ہو جائے۔

کارروائی کی قانونی حثیت

امریکہ کی طرف سے عراق پر حملے کی وجہ سے ایک بحران پیدا ہوگیا تھا۔ یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے انٹرنیشنل لا کی پروفیسر میری ایلن کے خیال میں ایران کے خلاف کارروائی کو قانونی جواز دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو اس کارروائی کو توثیق کرنی ہو گی کیونکہ ایران نے نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔

پروفیسر میری ایلن کے مطابق اسرائیل یہ موقف اختیار کرے گا کہ وہ ایران کے خلاف پیشگی کارروائی اپنے دفاع میں کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیل کے فعل کو قانونی تصور نہیں کیا جا سکے گا۔

لیکن بعض امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی ایران کو جوہری ہتھیار کو یقینی بنا دے گی۔