غزہ:اسرائیلی حملے میں بارہ فلسطینی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیل اور فلسطینی ذرائع کے مطابق فلسطینی علاقے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں ایک سینیئر فلسطینی عسکریت پسند رہنما سمیت کم سے کم بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ پی آر سی یا پاپولر ریزیسٹنس کمیٹی کے جنرل سیکرٹری زہیر القیسی اسرائیل پر حملے کی منصوبہ کر رہے تھے اس لیے ان کو ہدف بنایا گیا۔

اسرائیل کے مطابق فضائی کارروائی میں ایک دوسرا عسکریت پسند بھی مارا گیا ہے۔

دوسری جانب اسلامی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں مزید دس افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ افراد اسرائیل پر راکٹ داغنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے زھیر القیسی گزشتہ سال مصر اور اسرائیل کی سرحد پر ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث تھے جن میں آٹھ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ ان واقعات میں دس حملہ آور اور پانچ مصری فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

دوسی جانب پی آر سی نے حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ پی آر سی مختلف عسکریت پسند دھڑوں کی نمائندگی کرتی ہے اور اس نے حماس سے اتحاد کر رکھا ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیل کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے ایک دوسرے عسکریت پسند کا نام محمود ہنانی تھا اور وہ پانچ سال پہلے اسرائیلی قید سے رہا ہو کر غزہ آئے تھے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک گاڑی کے زور دار دھماکے سے پھٹنے کے فوری بعد فضا میں اسرائیلی ڈرون طیاروں کی آوازیں سنی گئی۔

اسرائیل کی جانب سے فضائی کارروائی غزہ سے دو راکٹ داغے جانے کے تقریباً دو گھنٹے بعد کی گئی۔ اسرائیلی علاقے میں گرنے والے راکٹوں سے کسی قسم کوئی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں