کینیا میں پچیس ہزار نرسیں ملازمت سے فارغ

کینیا نرسیں تصویر کے کاپی رائٹ online
Image caption کینیا میں 25 ہزار نرسیں ہڑتال پر ہیں

افریقی ملک کینیا کی حکومت نے ہڑتال کرنے والی پچیس ہزار نرسوں کو ملازمت برخاست کر دیا ہے۔

حکومت کے ترجمان الفریڈ متووا نے’شعبۂ صحت کے تمام اہلکاروں خواہ وہ بےروزگار ہوں یا ریٹائر ہوچکے ہوں‘ ان سے جمعہ کو سکاری ہسپتالوں میں کام کے لیے رپورٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

سرکاری صحت عامہ کے شعبہ میں کام کرنے والے افراد خاص طور پر نرسیں گزشتہ چار دن سے ہڑتال پر تھیں اور وہ بہتر تنخواہ، الاؤنس اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

اس دوران یونینوں نے اس اعلان کو گفت و شنید کے لیے ایک ’چال‘ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

کینیا ہیلتھ پروفیشنل سوسائٹی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’یہاں بلی، چوہے کا کھیل جاری ہے کوئی کس طرح پورے عملے کو برخاست کر سکتا ہے۔ تاہم ہماری ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ہمارا مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔‘

انھوں نے بتایا کہ صحت کے شعبہ میں کام کرنے والا ایک ملازم پچیس ہزار کینیائی شیلنگ فی ماہ تنخواہ اور الاؤنسز پر کا م کرتا ہے جو کہ ایک سو نوے امریکی ڈالر ہوتی ہے۔

اس کے برعکس سرکاری ترجمان متووا نے کہا ہے کہ صحت کے شعبہ میں کام کرنے والے اپنی ڈیوٹی پر نہ لوٹ کر ’غیر اخلاقی‘ ہونے کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان ملازمین کا نام تنخواہ کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ اب حکومت کے ملازم نہیں ہیں۔

کینیا کے میڈیکل پریکٹیشنروں، فارماسسٹ اور ڈنٹسٹ یونین کے صدر ڈاکٹر وکٹر اینگانی نے کہا ہے کہ یہ ’غیر ذمہ دارانہ‘ فیصلہ ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اتنے سارے اور اتنے برسوں کے تجربوں اور مخصوص مہارتوں کے حامل لوگوں کو اس طرح ہٹا دینا مشکل ہوگا۔

گزشتہ ہفتے کینیا کے سرکاری براڈکاسٹروں نے بھی کام بند کیا تھا اور حکومت نے انہیں برخاست کرنے کی دھمکی دی تھی۔

بعدازاں وہ مسئلہ طے پا گیا تھا اور کسی کی ملازمت نہیں گئی تھی۔

اسی بارے میں