’افغان عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ واقعہ نے کابل اور واشنگٹن کے پہلے سے خراب تعلقات کو ابتر کر دیا ہے

افغان پارلیمان نے امریکی فوجی کے ہاتھوں سولہ افغان شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم امریکی فوجی پر افغان عدالت میں عوامی مقدمہ چلایا جائے۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ اس فوجی نے تنِ تنہا یہ کارروائی کی۔ پینٹاگون نے اس واقعے کو افسوس کا اظہار بھی کیا۔

.افغان صدر نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جبکہ امریکی حکام نے افغانستان میں تعینات افواج کو متنبہ کیا ہے کہ ان کے خلاف جوابی کارروائی ہو سکتی ہے۔

ہلاکتوں کا یہ واقعہ اتوار کو علی الصبح اس وقت پیش آیا تھا جب ایک امریکی فوجی نے صوبۂ قندھار میں ایک فوجی اڈے سے باہر نکل کر شہریوں پر فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل تھے۔

افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کا یہ واقعہ امریکہ کے ساتھ اس سٹریٹیجک معاہدے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے جس کا مقصد امریکہ کو افغانستان میں 2014 کے بعد اپنی کچھ فوج رکھنے کی اجازت دینا ہے۔

ادھر طالبان نے کہا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں کا بدلہ لیں گے۔ انہوں نے اسے ’امریکیوں کی ایک وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے‘۔

افغان پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’ہم امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ذمہ داران کو سزا ملے گی اور ان پر افغانستان میں عوامی مقدمہ چلایا جائے‘۔

قرارداد میں ان ہلاکتوں کو ’ظالمانہ اور غیر انسانی‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ غیر ملکی فوجیوں کے لیے افغان عوام کا پیمانۂ صبر لبریز ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اپنے افغان ہم منصب حامد کرزئی کو فون کر کے ان ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

فائرنگ کرنے والے امریکی فوجی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ امریکی سارجنٹ ہیں اور انہوں نے اتوار کو فوجی اڈے سے نکل کر الکوزئی اور نجیبان نامی گاؤں کے تین گھروں پر فائرنگ کی۔ اطلاعات ہیں کہ نجیبان کے ایک گھر سے گیارہ افراد کی لاشیں ملیں۔

امریکی فوج کے مطابق امریکی سپاہی فائرنگ کرنے کے بعد فوجی اڈے میں واپس آ گیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کا ذمہ دار امریکی فوجی قندھار میں زیرِ حراست ہے اور امریکی فوج واقعے میں زخمی ہونے والے کم سے کم پانچ افراد کا علاج کر رہی ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی نے امریکی حکام کی بابت بتایا کہ زیرِ حراست سپاہی کی نشاندہی نہیں کی گئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ سپاہی کا تعلق امریکی ریاست واشنگٹن کی لیوس میکارڈ بیس سے ہے۔

حکام کے مطابق امریکی فوجی شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ حکام کے مطابق واقعہ کا ذمہ دار امریکی فوجی اس سے پہلے عراق میں تین بار خدمات انجام دے چکا ہے اور اُسے افغانستان میں پہلی بار تعینات کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ افغانستان میں ہونے والے یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب گزشتہ ماہ ہی کابل میں قرآن کے نسخے جلائے جانے کے بعد امریکہ کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فائرنگ کے واقعے میں سولہ افراد ہلاک ہوئے تھے

اگرچہ امریکی حکام نے قرآن جلائے جانے کے واقعہ پر معذرت کی تھی تاہم وہ افغانستان میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے میں ناکام رہے تھے۔ ان مظاہروں میں چھ امریکیوں سمیت کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروی کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ نے کابل اور واشنگٹن کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو ابتر کر دیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق طالبان نے فائرنگ کے واقعہ کو اپنی پروپیگینڈا فتح قرار دیا ہے جس نے صدر حامد کرزئی کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔

افغانستان میں ناراض قبائل نے امریکہ کی جانب سے افغان شہریوں کے گھروں میں رات کے چھاپوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق قبائلیوں نے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا موقف ہے کہ امریکہ کی معافی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

دوسری جانب کابل میں موجود امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ایک بیان میں امریکی سفارت خانے نے امریکی فوجیوں کے خلاف ممکنہ حملے کی تنبیہ جاری کی ہے۔

سفارت خانے نے اپنے سٹاف کی نقل و حرکت کو مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے تک محدود کرنے کو کہا ہے۔

اسی بارے میں