شام:’عالمی برادری ایک موقف پر اکٹھی ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام سیاسی تبدیلی کا عمل ضرور شروع ہو جانا چاہیے:ہلیری کلنٹن

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکہ کی وزیرِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے معاملے پر ایک موقف اختیار کریں۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خوفناک تشدد نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے پیر کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام اقوام، حتٰی کہ وہ بھی جنہوں نے ماضی میں ایسی کوششوں کو روکا ہے، مسئلے سے نمٹنے کے لیے عرب لیگ کے منصوبے کی حمایت کریں۔

واضح طور پر چین اور روس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ’ وہ یک زبان ہو کر بلاجھجک کہیں کہ شام میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور سیاسی تبدیلی کا عمل ضرور شروع ہو جانا چاہیے‘۔

اجلاس سے خطاب میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ شامی حکومت ’اپنے عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس کے برعکس اس نے اپنے شہریوں کو فوجی حملوں اور طاقت کے غیرضروری استعمال کا نشانہ بنایا ہے‘۔

انہوں نے سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کی کوششوں کی پرزورحمایت کرے تاکہ شام کو بھیانک تباہی سے کنارے سے واپس لایا جا سکے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام میں حکومتی فوج نے حمص میں حملوں کے دوران کم از کم سینتالیس شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

کارکنوں کے مطابق اتوار کی شب کرم الزیتون نامی علاقے میں ہلاک کیے جانے والے افراد میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حمص میں مارنے جانے والوں میں بچوں اور خواتین کے شامل ہونے کی بھی اطلاعات ہیں

شامی حکومت نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن مسلح دہشتگردوں کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ شام میں آزاد میڈیا پر عائد سخت پابندیوں کی وجہ سے ان اطلاعات کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔

حمص میں ہادی عبداللہ نامی ایک کارکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے سے چھبیس بچوں اور اکیس خواتین کی لاشیں ملی ہیں۔

یہ واقعات عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے مشترکہ امن ایلچی کوفی عنان کا دورۂ دمشق ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی پیش آئے ہیں۔

برطانیہ میں شام سے متعلق انسانی حقوق کے گروپ سیئرئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں کے بعد پیر کو کرم الزیتون سے سینکڑوں خاندان نقل مکانی کر گئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام کے شہر حمص میں گزشتہ کئی ہفتوں میں سرکاری فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔

سیئرئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ شہر میں گزشتہ رات ہونے والے حملے میں کم سے کم سینتالیس افراد ہلاک ہوئے تاہم شام کے مقامی کوآرڈینیشن کمیٹی نے مرنے والوں کی تعداد پینتالیس بتائی ہے۔

دونوں گروپوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں اور دونوں نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار حکومت کی حامی ملیشیا کو قرار دیا ہے جبکہ شام کے ریاستی میڈیا نے ہلاکتوں کو ’مسلح دہشت گردوں‘ کی کارروائی قرار دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شام کی حزبِ مخالف ’شامی قومی کونسل‘ نے شام میں ہونے والی ہلاکتوں پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔

.

اسی بارے میں