بی بی سی کے سینیئر ساتھی جو ہم میں نہ رہے

ذوالفقار علی بخاری
Image caption ذوالفقار علی بخاری بی بی سی اردو سروس کے بانی ہیں

بش ہاؤس اور اس سے پہلے 200 آکسفورڈ سٹریٹ پر قائم کی جانے والی بی بی سی اردو سروس میں اردو صحافت اور ادب کی دنیا کی نامور شخصیات نے کام کیا ہے۔ ان میں سے بہت سی ایسی شخصیات ہیں جو اب ہم میں نہیں ہیں۔ اب ان آوازوں کی گھن گرج اردو سروس میں سنائی نہیں دیتی۔ لیکن اس مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ان کو یاد رکھا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کوشش میں کئی ایک کا نام رہ گیا ہو لیکن اردو سروس سننے والوں کے دلوں میں ان کی آواز اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

ذوالفقار علی بخاری:

ذوالفقار علی بخاری اردو سروس کے پہلے بانی ہیں۔ ان کی پیدائش 1904 میں پشاور میں ایک صوفی خاندان ہوئی۔ ان کے بڑے بھائی پطرس شاہ بخاری اردو ادب کے ایک عظیم مزاح نگار گزرے ہیں۔ انہوں نے پشاور کے علاوہ لاہور میں تعلیم حاصل کی اور 1939 میں آل انڈیا ریڈیو میں سٹیشن ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد وہ ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بنے۔ بعد میں وہ پاکستان ٹی وی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔ جب وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ تھے تو انہیں لندن بلایا گیا اور بی بی سی کی اردو سروس شروع کی گئی جس کے وہ بانی ممبران میں سے ایک تھے۔ ان کا کام اور ان کی آواز اپنی مثال آپ تھی۔

اطہر علی:

اطہر علی سن انیس سو انسٹھ میں اردو سروس سے وابستہ ہوئے۔ بی بی سی اردو سروس سے پہلے وہ کراچی میں روزنامہ جنگ کے رپورٹر تھے۔ انیس سو اسی کے اوائل میں بی بی سی اردو سروس کے سربراہ بنے۔ بی بی سی اردو کے سربراہ بننے سے پہلے وہ اردو سروس میں سپورٹس کا ایک پروگرام کرتے تھے جو اپنی مثال آپ تھا۔

امجد علی:

امجد علی خان نے علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی تھی اور بی بی سی اردو سروس میں وہ حفضانِ صحت کے پروگرام کرتے تھے۔ ان کے رفقا کا کہنا ہے کہ وہ دراصل آدمی ہی سائنس کے تھے۔ وہ احمد رضا خان بریلوی کے سگے بھانجے تھے۔

خالد حسن قادری:

خالد حسن قادری، ممتاز ادیب حامد حسن قادری کے صاحبزادے تھے۔ بی بی سی کے بعد انہوں نے سکول آف ویسٹرن اینڈ اوریئنٹل سٹڈیز میں شمولیت اختیار کر لی اور وہاں اردو پڑھاتے رہے۔

سلیم شاہد:

پاکستان بننے سے پہلے سلیم شاہد آل انڈیا ریڈیو میں کام کرتے تھے۔ انیس سو سینتالیس میں وہ پاکستان آ گئے اور کافی عرصے تک ریڈیو پاکستان میں کام کرنے کے بعد لندن آ گئے۔ بی بی سی اردو سروس میں انہوں نے تقی احمد سید اور یحیٰ سید کے ساتھ مل کر ایک مزاحیہ لیکن نہایت معلوماتی پروگراموں کی سیریز کی جس کا نام مانیئے یا نہ مانیئے تھا۔

آلِ حسن:

آلِ حسن بھی سلیم شاہد کے ساتھی تھے۔ انہوں نے سلیم شاہد کے ساتھ مل کر ریڈیو کا ایک پروگرام ’اپنا ہی گھر سمجھیئے‘ کیا۔ آلِ حسن کا تعلق لکھنؤ سے تھا اور ویسے تو وہ ہندی سروس سے وابستہ تھے لیکن اردو والے ان کو بالکل اپنا ہی سمجھتے تھے۔

وسیم صدیقی:

وسیم صدیقی کا تعلق شاعر امیر مینائی کے خاندان سے تھا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی کے زمانے سے ہی وہ ڈراموں میں باقاعدگی سے حصہ لیتے تھے۔ بی بی سی اردو سے انہوں نے بچوں کا پروگرام شاہین کلب شروع کیا جس میں محمد علی شاہ ’سدو بھائی‘ بنے۔ ان کا تعلق جے پور سے تھا اور بات کرنے کا انداز بالکل منفرد۔ سدو بھائی کا کردار اتنا مقبول ہوا کہ ہر کوئی محمد علی شاہ کو صرف سدو بھائی کے نام سے جاننے لگا۔

یونس واسطی:

شاہین کلب کو آگے بڑھانے والوں میں یونس واسطی کا بھی ہاتھ تھا۔ یونس واسطی بی بی سی اردو میں ریڈیو پاکستان سے آئے تھے۔ سن ساٹھ کے عشرے سے پہلے اردو سروس میں ڈراموں اور ثقافتی پروگراموں پر زیادہ زور دیا جاتا تھا لیکن سنہ ساٹھ میں خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں پر زیادہ زور دیا جانے لگا اور اسی مناسبت سے ادارے میں اخبارات سے زیادہ صحافی آنے لگے۔

انعام عزیز:

انعام عزیز کراچی میں روزنامہ جنگ کے نیوز ایڈیٹر تھے۔ وہ انیس سو سڑسٹھ میں اردو سروس میں شامل ہوئے اور اردو سروس میں اپنا کانٹریکٹ پورا کرنے کے بعد وہ جنگ لندن کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔

محمد غیور:

محمد غیور اسلام آباد میں بی بی سی کے نمائندے کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔ وہ لکھنؤ سے کراچی آئے تھے جہاں وہ ٹریڈ یونین موومنٹ میں پیش پیش رہے۔ کچھ عرصہ انجام اخبار سے منسلک رہنے کے بعد انہوں نے راولپنڈی میں میر خلیل الرحمان کے انگریزی کے اخبار میں شمولیت حاصل کر لی ۔ اسی زمانے میں انہوں نے اسلام آباد سے بی بی سی کے سٹرنگر کے طور پر خبریں بھیجنا شروع کر دیں۔ دراصل ان دنوں برِصغیر میں بی بی سی کے صرف ایک نامہ نگار تھے اور وہ تھے مارک ٹلی جو کہ دلی میں مقیم تھے۔ حالات بدلنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی سٹرنگر کی ضرورت محسوس کی گئی۔ پاکستان کی انتظامیہ ان کی خبروں سے اتنی خوش نہیں تھی اس لیے بی بی سی نے یہی مناسب سمجھا کہ انہیں لندن بلا لیا جائے اور اس طرح وہ باقاعدہ اردو سروس سے منسلک ہو گئے۔ خلیجی ریاستوں میں تارکینِ وطن پاکستانیوں پر ان کی نہایت خوبصورت سیریز کی وجہ سے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

سارہ نقوی:

سارہ نقوی اردو سروس کے بدلتے ہوئے رجحان کی مظہر تھیں۔ وہ بی بی سی آنے سے پہلے وائس آف امریکہ میں تھیں۔ اردو سروس میں انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ یہاں خبریں پڑھنے والی پہلی خاتون تھیں۔ لیکن ان کا اصل کارنامہ مسلم سائنسدانوں اور خلا کے بارے میں سائنسی پیش رفت پر پروگرام کی سیریز پیش کرنے کا تھا۔ وہ اس سلسلے میں ناسا بھی گئیں۔

حسن ذکی:

ایک دور یہ بھی آیا کہ ایک سلسلہ سا شروع ہوا کہ سروس میں ایک شخص آل انڈیا ریڈیو سے آئے گا اور ایک شخص آئے گا ریڈیو پاکستان سے۔ وہ ریڈیو پاکستان سے آنے والوں میں تھے۔ انہوں نے ایک خوبصورت پروگرام ’آم کے آم گٹھیلوں کے دام‘ پیش کیا جو کہ ایک خوبصورت اور مشہور پروگرام تھا۔

راشد الغفور:

وہ بھی 65 کے بعد آنے والے لوگوں میں سے تھے۔ لیکن وہ براہ راست عملے میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ وہ آؤٹ سائد کنٹریبیوٹر کے طور پر حصہ لیتے تھے اور ایک عرصے تک انہوں نے سائنس کا پروگرام کیا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کے بعد وہ کانٹریکٹ پر عملے میں آگئے۔ بنیادی طور پر وہ اکاؤنٹس کے آدمی تھے۔ لیکن یہ کئی لوگوں کے ساتھ ہوا ہے کہ وہ آئے تو تعلیم حاصل کرنے لیکن اس کے ساتھ ساتھ براڈکاسٹر بھی بن گئے۔ وہ بہت ہی نفیس، بزلہ سنج آدمی اور مجلسی آدمی تھے۔

تقی سید:

تقی سید کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تھا۔ وہ منہاج برنا کے ساتھیوں میں سے تھے۔ وہ 1965 سے ہی اردو سروس میں تھے۔ بی بی سی میں شامل ہونے سے پہلے وہ پیرس کی کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس کے بعد براڈکاسٹنگ میں آگئے۔ بہت ہی نفیس آدمی تھے اور ان کا مطالعہ بہت زبردست اور وسیع تھا۔ اس زمانے میں صرف ایک پروگرام ہوتا تھا سہ پہر کو۔ اس کے بعد سب لوگ کینٹین میں جمع ہوتے تھے یا پھر کلب میں۔ تو تقی صاحب کے گرد لوگ باقاعدہ جمع ہو جاتے اور سنتے کہ انہوں نے کون سی نئی کتاب پڑھی اور ان کا حافظہ ایسا زبردست تھا کہ وہ جو بھی کتاب پڑھتے ا س کا لب لباب پیش کرتے تھے اور لوگ اس سے کافی محضوظ ہوتے تھے۔

انور خالد:

انور خالد ستر کی دہائی میں آگئے تھے۔ انہوں نے ایک بہت اچھا پروگرام شروع کیا تھا۔ خواتین کا پروگرام تھا۔ برگ گل۔ بڑا مقبول پروگرام تھا۔ وہ خواتین کے مسائل کے علاوہ خواتین کی تخلیقات کو پیش کرتے تھے اور وہ اتنا مشہور پروگرام تھا کہ اس میں حصہ لینے والوں نے باقاعدہ خواتین کی ایک ادبی انجمن ’ برگ گل‘ کے نام سے لندن میں قائم کی۔

منصور موجز:

منصور موجز دراصل پبلک ریلیشنز کے آدمی تھے۔ وہ بھی اس زمانے میں او سی کی حیثیت سے آئے تھے۔ عملے میں نہیں تھے لیکن بڑی باقاعدگی سے پروگراموں میں حصہ لیتے تھے۔ وہ شاعر مزاج اور بڑے بزلہ سنج تھے۔ لوگ ان کے صحبت میں بیٹھ کر بہت محضوظ ہوتے تھے۔