نایاب معدنیات کی برآمدات محدود کرنے پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نایاب معدنیات میں سترہ دھات شامل ہیں جو الیکٹریکل اشیاء سمیت بیشر دیگر اشیاء کو بنانے میں استعمال میں آتے ہیں۔

امریکہ، جاپان اور یورپی یونین نے عالمی تجارتی ادارے میں چین کی نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے اس مقدمے کا اعلان وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

اس مقدمے کے تحت چین پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ عالمی تجارتی ادارے کے طے شدہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ چین نے نایاب معدنیات کی برآمدات پر کوٹہ سسٹم نافذ یا برآمدات کو محدود کر دیا ہے جبکہ یہ معدنیات گاڑیوں سے لے کر ٹی وی تک بہت سی اشیاء کو بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

یہ عالمی تجارتی ادارے میں دائر ہونے والا پہلا کیس ہے جو امریکہ، یورپی یونین اور جاپان نے مشترکہ طور پر کسی کے خلاف دائر کیا ہے۔

ان ممالک کا یہ موقف ہے کہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی مقدار پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے سے دنیا بھر میں چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ دنیا میں پچانوے فیصد نایاب معدنیات کی برآمد چین کرتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ’ہمیں اپنے توانائی کے مستقبل پر قابو پانا ہو گا اور ہم یہ نہیں ہونے دے سکتے کہ توانائی کی انڈسٹری کا گڑھ کسی اور ملک میں ہو کیونکہ انہیں قوانین کو توڑنے کا موقع دیا گیا۔‘

انہوں نے کہا ’اگر چین مارکیٹ کو اپنے آپ چلنے دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔‘

پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تجارتی عمل درآمد کے لیے بنائی گئی ایک یونٹ گزشتہ ماہ متحرک ہو گئی ہے جس کا مرکزی ہدف چین ہے۔

دوسری جانب چین نے اس مقدمے میں اس پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے برآمدات پر پابندی، کان کنی کے باعث ماحول کو نقصان سے بچانے کے لیے لاگو کی ہیں۔

چین کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے ’ہمارے خیال میں ہماری پالیسی عالمی تجارتی ادارے کے قوانین کے خلاف ورزی نہیں کر رہی۔‘

ان کا کہنا تھا ’برآمدات مستحکم ہیں اور چین برآمد کرتا رہے گا اور نایاب معدنیات کی برآمدات عالمی تجارتی ادارے کے قوانین کے تحت کرے گا۔‘

واضح رہے کہ ان نایاب معدنیات میں سترہ دھات شامل ہیں جو الیکٹریکل اشیاء سمیت بیشر دیگر اشیاء کو بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔

اس بات پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ چین برآمدات کی مقدار پر پابندی عائد کرنے سے اپنے ملک میں قیمتوں کو کم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے اندرون ملک انڈسٹری کو فائدہ پہنچے گا۔

لیکن کان کنی کی سروس فراہم کرنے والے کمپنی ریئر ارتھز گلوبل کے چیئرمین اِیور شارگو کا کہنا ہے کہ امریکہ ماضی میں غلط فیصلے لینے کی وجہ سے اب مسئلے میں ہے۔

ان کا کہنا تھا ’انہوں نے جان بوچھ کر آج سے بیس سال پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ملک میں نہیں بلکہ بنی بنائی اشیاء بیرون ملک سے درآمد کریں گے۔‘

انہوں نے کہا ’اس فیصلے کی وجہ سے چین میں ہمارے پاس وہ مہارت اور ہنر ہے جو اوروں کے پاس نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں