’سری لنکا میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں‘

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ سری لنکا میں جنگ کے خاتمے کے تین سال بعد بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق سری لنکا میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد کو عدالتی کارروائی کے بغیر حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان پر اکثر اوقات تشدد اور قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت شائع ہوئی ہے جب آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی سے متعلق کونسل نے سری لنکا میں جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے ایک قرارداد پر بحث کرنی ہے۔

سری لنکا کا ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم ماضی میں اس نے جنگ کے آخری مراحل اور بعد میں اپنائے گئے طریقہ کار کا سختی سے دفاع کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ملک میں مئی دو ہزار نو میں تنازع کے ختم ہونے اور گزشتہ سال ایمرجنسی کے خاتمے کے باوجود لوگوں کو بے باکی سے حراست میں لیا جا رہا ہے اور جبری گمشدگیاں معمول ہیں۔

تنظیم کے مطابق حقوق انسانی کی سنگین خلاف وزیوں کی نہ تو تفتیش ہوتی ہے اور نہ ہی ذمہ داروں کو سزا دی جاتی ہے۔

برطانیہ میں بدھ کو ایک دستاویزی فلم نشر ہونے والی ہے جس میں تمل باغیوں کے رہنما پربھاکرن کے بارہ سال بیٹے کو قریب سے ہلاک کرتے دکھایا گیا ہے۔

چینل فور کی خاتون ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سری لنکن اہلکار نے حلفاً بیان دیا ہے کہ پربھاکرن کے بیٹے سے پہلے ان کے والد کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی اور اس کے بعد ہلاک کر دیا۔

لندن میں سری لنکا کے ہائی کمشنر نے اس پروگرام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام مصنوعی اور تائید کے بغیر الزامات پر مبنی ہے۔

دوسری جانب سری لنکن فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تم باغیوں کے ساتھ جنگ کے آخری دور پر ایک دستاویزی فلم تیار کی جا رہی ہے جس میں باغی رہنما پربھاکرن کی ہلاکت کے حوالے سے حقائق کی وضاحت کی جائے گی۔

فوج پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر پربھاکرن کو اس وقت بے رحمی سے ہلاک کر دیا جب وہ ہتھیار ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم فوج کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران پربھاکرن کی ہلاکت ہوئی۔

اسی بارے میں